اہل بیت نیوز ایجسنی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،چین نے اسرائیل کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان کے مسئلے میں کسی بھی قسم کی مداخلت یا حمایت “سرخ لکیر” کو عبور کرنے کے مترادف ہوگی۔
چین کے زیر انتظام چین کا سفارت خانہ برائے اسرائیل نے اسرائیلی پارلیمانی وفد کے تائیوان کے دورے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کے اراکین، جن کا تعلق یش عتید پارٹی سے بتایا گیا ہے، نے تائیوان کا دورہ کیا اور وہاں کی قیادت سے ملاقات کی۔
چینی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ دورہ “ایک چین پالیسی” کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے سیاسی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے لیے بنیادی اور ناقابلِ سمجھوتہ معاملہ ہے، اور کوئی بھی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
چین نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر ایسے اقدامات جاری رہے تو اسرائیل کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تائیوان کے گرد خطے میں پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ