بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
- اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف "حماسی طیش" ـ "ایپک فیوری" نامی امریکی صہیونی کاروائی، جو بالآخر "ایپک شیم" بن گئی ہے، اب گر گر کر "فریڈم پروجیکٹ" تک تنزل کر گئی، یہ ہؤا کیسے؟ اور ایپک فیوری میں دشمن ایران پر قبضہ کرنا چاہتا تھا اب وہ فریڈم پروجیکٹ میں کس چیز کو آزاد کرانا چاہتا ہے؟ آبنائے ہرمز میں جہازرانی کو؟ تو وہ تو جنگ سے پہلے کھلا تھا اور اسی پروجیکٹ کے دعویدار نے ایران پر جنگ مسلط کرکے اسے بند کرا دیا!
** کل منگل کا دن، اسی سوموار کا اگلا دن تھا، جب ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا لیکن آبنائے ہرمز ایرانی قوم کے عزم کے نتیجے میں بدستور بند ہے۔
- امریکہ اور امارات کی طرف سے کچھ مختصر نقل و حرکت دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں کچھ اماراتی تیلبردار جہاز، کچھ پائپ لائنیں، فجیرہ میں ایک پٹروکیمیکل کمپلیکس اور ایک امریکی فریگیٹ میزائلوں کا نشانہ بنے، نیز ایک امریکی ایئرفیولنگ ٹینکر ریڈاروں سے محو ہو گیا نہ جانے کہاں گیا! فی بیرل تیل کی قیمتوں نے بھی 5 یا 6 ڈالر کی جست لگا دی، باقی سب خیریت رہی!
** ایپک فیوری آپریشن کو ٹرمپ کی پہلے درجے کی فتح پر منتج ہونا تھا! وہ ایران کی تہذیب یافتہ اور نہ تھکنے والی ثابت قدم قوم کو گرا کر کئی اتحادی اور حریف ممالک کو یکجا اپنی جگہ بٹھانا چاہتا تھا۔
- لیکن آج کوئی بھی ملک اس کی بات کو اہمیت نہیں دیتا، کوئی اس سے نہیں ڈرتا، یہی نہیں بلکہ کئی ممالک جنگ سے جنم لینے والے معاشی اور سیکورٹی بحران کی وجہ سے اس پر دشنام طرازی تک بھی کرتے ہیں۔ جنگ سے پہلے کے حالات، جنگ کے دوران بالکل بدل گئے ہیں اور ناقابل واپسی ہیں۔
** خطے کی چھوٹی ریاستوں کے کچھ ذہنی نشوونما سے محروم علاقائی حکام کے سوا، کوئی بھی ایران کےناممکن محاصرے یا آبنائے ہرمز کھلوانے کے ٹرمپی منصوبوں میں میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہؤا؛ اور ہاں! ٹرمپ کے وعدوں، دعوؤں اور نعروں کے برعکس، کوئی بھی تجارتی یا تیل بردار جہاز وہ خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہے جس سے امریکہ کے جنگی بحری جہاز، خود دور بھاگتے ہیں، اور کوئی بھی ٹرمپ کے ایکس پیغامات یا آبنائے ہرمز سے دور رہنے والے امریکی جہازوں یا امریکی فضائیہ کے حمایتی وعدوں کے بل بوتے پر، آبنائے ہرمز سے گذرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، وہ صرف ایرانی افواج کی منظوری اور اجازت پر اعتماد کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔
نکات:
امریکیوں نے زمینی کاروائی کے لئے بڑی تمہیدیں باندھ لی تھیں اور اچانک معلوم ہؤا کہ وہ اصفہان کے جنوب میں ـ ایک گرائے گئے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو نجات دلانے کے بہانے ـ ایرانی یورینیم چوری کرنے کے لئے زمینی کاروائی کی ہمت کی ہے۔ یہ کاروائی شروع ہونے سے پہلے ناکام ہو گئی اور ٹرمپ کے فوجیوں کو ایک ایف-15 لڑاکا طیارہ، دو c130 طیارے، دو A-10 طیارے، چار سے چھ ہیلی کاپٹر ـ بہت ساری اہم دستاویزات اور کچھ لاشیں چھوڑ کر ـ بھاگنا پڑا اس کاروائی میں امریکیوں کی عظیم عالمی شکست کو ایران میں "طبس-2" کا نام دیا گیا اور اس نے 1980 میں طبس کے مقام پر ہونے والی ناکام امریکی کاروائی کی یاد تازہ کر دی۔ اس کاروائی کے بعد ہی ٹرمپ نے جنگ بندی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر پاکستانی حکام پر زبردست دباؤ ڈالنے کا آغاز کیا تھا۔۔۔ اور کل آبنائے ہرمز میں بھی امریکہ نے ابوظہبی کی مدد سے "فریڈم پروجیکٹ" کے عنوان سے ایک کاروائی کا آغاز کیا اور ایران کے خلاف جنگ کے معمول کے مطابق، پھر بھی ناکام ہوگیا اور ایک سمندری طبس یا طبس 3 رقم کر دیا۔ اب تک منظر عام پر آنے والی معلومات کے مطابق، ایک امریکی فریگیٹ، ایک ایم کیو-9 امریکی ڈرون، دو امریکی ڈسٹرائرز ایک فرانسیسی جہاز ـ جو ان دو جہازوں کی حفاظت میں جا رہا تھا ـ، چند اماراتی بحری جہاز یا تباہ ہوگئے یا نقصان سے دوچار ہوئے۔ ایک ایئرفیولنک امریکی طیارہ لاپتہ ہو گیا، امریکیوں نے عمان سے ایران آتی ہوئی چھوٹی سامان بردار کشتیوں کو نشانہ بنا کر تیزرفتار فوجی کشتیوں پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ بہرصورت بحری المیے کے تجربے سے بھی گذرنا پڑا ہے، اور جس کے بعد ٹرمپ نے پسپائی کے اعلان کے لئے پاکستان کی درخواست کا بہانہ بنایا اور کہا کہ مذاکرات ہو رہے ہیں، کہ گویا اس سے قبل وہ بھول گیا تھا کہ مذاکرات ہو رہے ہیں!: بہرحال بحری طبس یا طبس-3 بھی رقم ہؤا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد ایمانی، کالم نگار
ترتیب و جمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ