بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
- کیپلر انسٹی ٹیوٹ: "امریکی دعوؤں کے باوجود، کل 7 جہاز آبنائے ہرمز سے گذر گئے".
- صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم: "ٹرمپ کا وہم تھا کہ بھاری بمباری اور پھر بحری محاصرہ دیکھ کر ایران پسپا ہوگا، لیکن تہران میں پسپائی کے اثار نہیں دکھائی دیتے۔ اب ٹرمپ کو دوراہے پر کھڑا ہے: "پسپائی کے لئے حملہ"، یا "محاصرے کا خاتمہ"۔ ایران طویل مدتی دباؤ برداشت کرنے کا عادی ہے، اس نے اپنے آپ کو حالات سے تطبیق دی ہے اور قدغنوں کو بائی پاس کرنے کے راستے تلاش کر لئے ہیں۔ یہ مسئلہ واشنگٹن کی مایوسی کا موجب بنا ہے۔ توقع تھی کہ ایران بھاری فضائی حملوں کے بعد، کمزور پوزیشن سے مذاکرات میں شامل ہوجائے؛ لیکن حقائق توقعات سے مختلف ہیں۔ ٹرمپ خود کو پسپا ہوتا ہؤا یا ایران کے مطالبات مانتا ہؤا نہیں دکھانا چاہتا۔ لیکن وہ اس کو ناقابل انکار رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں سے ایک اندرون ملک اقتصادی دباؤ ہے۔"
- اگلے انتخابات میں شکست: "تمام تر رائے شماریوں سے عیاں ہے کہ ٹرمپ (ریپبلکنز) مڈٹرم انتخابات میں کانگریس ميں اپنی اکثریت کھو جائیں گے اور حالیہ قاتلانہ حملہ بھی اس صورت حال کو نہیں بدل سکے گا۔
- واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی کی تازہ رائے شماری: "61٪ امریکی کہتے ہیں کہ ایران کی جنگ ایک "غلطی" ہے.
عراق کی جنگ میں تین سال گذر گئے تو عوام کی مخالفت اس سطح پر پہنچی۔ اور ویتنام کی جنگ میں چھ سال۔
- نیٹو کا سابق کمانڈر "ویزلی کلارک": "امریکہ ایران کے حملوں میں ایسے ریڈار ہاتھ سے دے گیا ہے جن کا متبادل لانا دشوار ہے۔/ اس وقت ٹوماہاک میزائلوں کا ذخیرہ 50٪ فیصد تک گھٹ گیا ہے۔ / ہم نے ایک تہائی بیلسٹک میزائل شکن میزائلوں کا ایک تہائی اور تھاڈ میزائلوں کا نصف ذخیرہ خرچ کر دیا ہے۔ اس کمی کا ازالہ کئی برسوں میں ممکن ہوگا۔"
- کانگریس رکن "سارا جیکبز": "ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ پہلے دن سے ہی غیرقانونی تھی اور کانگریس نے کبھی بھی اس کی منظوری نہیں دی۔ جمعہ کے روز 60 روزہ مہلت ختم ہوئی۔ اب ریپبلکنز کے پاس کوئی بہانہ نہیں اور انہیں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر جنگ کا خاتمہ کرنا چاہئے۔"
ایک دلچسپ ٹرمپیہ:
ٹرمپ نے فوجی قوت کے استعمال کے صدارتی اختیار کی مہلت ختم ہونے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:
"یہ قانون مکمل طور پر آئین کے خلاف ہے!"
ضدی بچہ ٹرمپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ