اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،لبنان کی تنظیم حزبالله کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ مزاحمتی قوت کا اسلحہ لبنان کے وجود اور دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں میں ناکام ہو چکا ہے، جبکہ مزاحمت بدستور مضبوط اور مؤثر انداز میں جاری ہے۔ ان کے مطابق مزاحمتی قوت کسی بھی صورت میں اپنے اسلحے سے دستبردار نہیں ہوگی۔
شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم براہِ راست مذاکرات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور لبنانی حکومت کو چاہیے کہ وہ غیر مستقیم سفارتی راستہ اختیار کرے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات نہ کرے جو ملک کے حقوق کو کمزور کریں یا قومی مفادات کو نقصان پہنچائیں، بلکہ عوام کی نمائندگی کو ترجیح دے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی جارحیت امریکہ کی حمایت کے باوجود اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی، اور مزاحمت نے مختلف میدانوں میں مؤثر جواب دیا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے زور دیا کہ لبنان کے کسی بھی حصے پر اسرائیل کا قبضہ مستقل نہیں رہ سکتا، اور بالآخر مقبوضہ علاقوں کے لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں گے۔
انہوں نے پانچ نکاتی مطالبہ بھی پیش کیا، جس میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا انخلا، قیدیوں کی رہائی، بے گھر افراد کی واپسی اور تعمیرِ نو کا آغاز شامل ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ مزاحمت اپنے اسلحے کو دفاع اور جارحیت کے خلاف ایک ضروری ذریعہ سمجھتی ہے اور اس سے دستبرداری کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔
آپ کا تبصرہ