بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ایپسٹین امپائر کے بادشاہ، ظلم و جبر کے مظہر، بدعنوان اور خبیث امریکی صدر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ جھوٹ بہت بولتا ہے، گوکہ اس جھوٹ سے اسے اور اس کے خاندان کو اربوں ڈالر کی کمائی حاصل ہوجاتی ہے لیکن جھوٹ بہر حال جھوٹ ہے اور کسی ملک کا سربراہ اپنی ذات کو ملک و قوم پر ترجیح نہیں دیتا لیکن یہ شخص صرف اپنے آپ کو ایپسٹین کیس میں اپنا کردار چھپانے کے لئے نیتن یاہو سے بلیک میل ہؤا اور ہزاروں انسانوں کا خون کیا اور اپنے تمام تر علاقائی مفادات اور اثاثوں کو ایرانی میزائلوں کے ذریعے تباہ اور اپنے ننھے منے اتحادیوں کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا۔
1۔ ٹرمپ کا جھوٹ: آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل گیا۔
حقیقت: آبنائے ہرمز قید و شرط اور ضوابط کے تحت کھل گیا تھا، نہ کہ مکمل طور پر۔
(آبنائے سے محدود جہازرانی کی اجازت امریکہ کی عہدشکنی کی وجہ سے واپس لی گئی!)
2۔ ٹرمپ کا جھوٹ: ایران امریکہ میں منجمد اثاثوں میں سے کچھ بھی وصول نہیں کرے گا۔
حقیقت: پاکستانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی آزادی کا مسئلہ اسلام آباد مذاکرات میں طے پا چکا ہے۔"
3۔ ٹرمپ کا جھوٹ: ایران امریکہ کی مدد سے بحری بارودی سرنگوں کو جمع کر لیا ہے، یا انہیں جمع کر رہا ہے۔
حقیقت: آپریشن کی بات تو درکنار، ڈی مائننگ آپریشن کے لئے سمجھوتہ ہی نہیں ہؤا ہے!
4۔ ٹرمپ کا جھوٹ: ایران نے اتفاق کر لیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو پھر بند نہیں کرے گا۔
حقیقت: ایران نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا ہے، کیونکہ اس نے آج آبنائے ہرمز کو بند کردیا۔
5۔ ٹرمپ کا جھوٹ: ایران نے یورینیم کی افزودگی مکمل رول بیک کرنے سے اتفاق کیا ہے۔
حقیقت: یورینیم کی افزودگی ایران کا قانوی حق ہے، یہ ٹیکنالوجی مقامی سائنسدانوں کی محنت کا ثمرہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کسی اور نے ایران کو نہیں دی کہ اب اسے واپس لے سکے!
6۔ ٹرمپ کا جھوٹ: ایران کا پورا افزودہ یورینیم امریکہ منتقل ہوگا۔
حقیقت: افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہؤا ہے۔
7۔ ٹرمپ کا جھوٹ: ایران نے تقریبا ہماری تمام مطالبات سے اتفاق کر لیا ہے۔
حقیقت: ایران نے امریکہ کا کوئی حریصانہ مطالبہ قبول نہیں کیا اور جنگ کے تیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ