بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا
بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک عالمی طاقت شاذ و نادر ہی ـ اپنی تمام تر فوجی، ابلاغیاتی، معاشی صلاحیتوں کو 40 روزہ جنگ کے دوران ـ نہ صرف اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کرسکی ہے بلکہ ہر مرحلے میں ایک نئی شکست کے تجربے سے گذری ہے۔
یہ رپورٹ میدانی مستند اور میدانی حقائق کی بنیاد پر ایک زیادہ سے زیادہ ہمہ جہت پراجیکٹ کی شکست و زوال کے نمونے پیش کرتی ہے:
حصہ سوئم: جیوپولیٹیکل اور علاقائی ناکامیاں
16۔ محور مقاومت میں شگاف ڈالنے میں ناکامی
ایران، عراق، شام، لبنان، یمن اور شام و فلسطین میں محاذہائے مقاومت کے درمیان ربط و تعلق میں نہ صرف کوئی کمزوری آئی بلکہ مقاومت کا اشتراک عمل اس پورے خطے میں دیکھنے میں آیا اور بیروت سے صنعا تک یکجہتی کے عملی پیغامات دنیا کے لئے بھجوا دیئے گئے۔۔
17۔ نئے مشرق وسطیٰ اور گریٹر اسرائیل کے منصوبوں کی ناکامی
"گریٹر اسرائیل" اور "نئے مشرق وسطیٰ" کے وہمیاتی منصوبے، جن کا وعدہ دیا گیا تھا اور ان کی حقانیت کے لئے تحریف شدہ توریت کے حوالے دیئے گئے تھے، ایران اور مقاومت کی استقامت کی برکت سے تاریخ کے محافظ خانے میں دفن ہو گئے۔
18۔ ایران کا جوہری پروگرام روکنے میں ناکامی
ایران کی جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سیف گارڈز کے تحت جاری رہیں۔ ایٹمی تنصیبات میں کوئی خلل نہیں پڑی ہے اور یورینیم کی افزودگی بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں، بدستور جاری ہے۔
19۔ عرب ملکوں کے ایران کے خلاف جنگ میں اپنے ساتھ ملانے میں ناکامی
یہاں تک کہ خطے میں امریکہ کے روایتی اتحادیوں نے بھی ایران مخالف اتحاد میں شمولیت سے گریز کیا۔ علاوہ ازیں، عرب ممالک نے ایک نیا تجربہ حاصل کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ان کے مفاد میں نہيں ہے۔
20۔ امریکی فوج کی کمانڈ میں تزلزل
امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کے استعفوں اور برطرفیوں کی لہر نے دنیا کو حیران کر دیا جنہوں نے ابتداء میں ایران مخالف پالیسیوں کی حمایت کی تھی لیکن میدان جنگ میں امریکی حکمت عملیوں کی یکے بعد دیگرے ناکامیوں کے بعد نظر ثانی پر زور دینے لگے اور جنگ جاری رہنے کی مخالفت کی جس کی وجہ سے یا تو انہیں برطرف کیا گیا یا استعفے دینے پر مجبور ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ