اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان ہوا، یورپی ممالک کے اعلیٰ حکام نے لبنان میں فوراََ لڑائی روکنے اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے پر زور دیا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ یوت کوپر نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کو خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا اور پاکستان کی ثالثی کو سراہا۔ انہوں نے لبنان میں دشمنی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایران کو ہرمز راستے میں منی بچھانے، ڈرون حملوں اور تجارتی بحری نقل و حمل میں رکاوٹیں ڈالنے جیسی تمام کارروائیاں فوراً بند کر دینی چاہئیں۔
اسپین کے وزیر خارجہ «خوسے مانویل آلبارس» نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلی فون بات چیت کے بعد لبنان کی خودمختاری کی حمایت پر زور دیا اور لکھا: “لبنان کو مشرقِ وسطیٰ میں حاصل شدہ جنگ بندی میں شامل کیا جانا چاہیے۔”
برلن میں، وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارٹن گیزے نے بتایا کہ وزیر خارجہ یوہان وادفول نے اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدعون ساعر سے ٹیلی فون پر بات میں مطالبہ کیا کہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیاں لبنان تک محدود رکھے اور صرف “ضروری دفاع” تک محدود رہیں۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے بھی اعلان کیا کہ جنگ بندی میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر لڑائی کا خاتمہ شامل ہے اور امریکہ کی جانب سے ایران کے عملی ۱۰ نکاتی منصوبے کو طویل المدتی امن مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ