26 مارچ 2026 - 21:07
مآخذ: ابنا
آبنائے ہرمز کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ راستہ اب صرف تیل کی ترسیل تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کے لیے بھی نہایت ضروری بن چکا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ راستہ اب صرف تیل کی ترسیل تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر خوراک کی فراہمی کے لیے بھی نہایت ضروری بن چکا ہے۔ خلیجی ممالک ہر سال بڑی مقدار میں غلہ اور دیگر غذائی اشیاء درآمد کرتے ہیں جن کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ فوری طور پر سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق لاکھوں ٹن اجناس، مویشیوں کا چارہ اور زرعی مصنوعات اس راستے سے منتقل ہوتی ہیں، جبکہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی کیمیائی کھاد کا بھی ایک بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اگر کھاد کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر براہِ راست زرعی پیداوار پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی یا اس میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ دنیا کے دیگر حصے بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ ایسی صورتحال میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور بعض اشیاء کی قلت جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha