21 مارچ 2026 - 23:31
مآخذ: ارنا
 امریکا اور صیہونی حکومت کے حملوں کا فوری طور پر رک جانا اورجارحیت کی عدم تکرار کی ضمانت، جنگ ختم ہونے کا لازمہ ہے

صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ  ٹیلیفونی گفتگو میں ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت ، علاقے اور دنیا پر اس جنگ کے اثرات اور باہمی روابط کا جائزہ لیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ  ٹیلیفونی گفتگو میں ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کی جارحیت ، علاقے اور دنیا پر اس جنگ کے اثرات اور باہمی روابط کا جائزہ لیا ہے۔

 ارنا کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعودپزشکیان نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں، امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے جارحانہ حملوں اور جنگی جرائم بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ شروع نہیں کی ہے، امریکا اور صیہونی حکومت نے ایٹمی مذاکرات کے دوران، بغیر کسی قانونی جواز کے ایران کے خلاف  فوجی  جارحیت شروع کی، رہبر معظم انقلاب اسلامی، متعدد اعلی فوجی افسران اور معصوم اسکولی بچیوں سمیت بہت سے عام شہریوں کو شہید کردیا۔   

 انھوں نے کہا کہ امریکا نے ہمارے ایک پڑوسی ملک کے اندر موجود اپنے فوجی اڈے سے  شہر میناب کے گرلس پرائمری اسکول پر وحشیانہ حملہ کرکے 168 معصوم اسکولی بچیوں کا قتل عام کردیا۔

   صدر ایران نے ایران کے خلاف غیرقانونی فوجی جارحیت کی توجیہ میں امریکی صدر کے اس بے بنیاد دعوے کو مسترد کردیا کہ یہ  حملہ ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہید رہبرانقلاب اسلامی کی مشارکت سے  ہونے والی مختلف میٹنگوں میں، شہید رہبر نے سختی سے ایٹمی اسلحے کی مخالفت کی اور ایٹمی اسلحہ بنانے کی طرف نہ جانے کا لازمی شرعی اور دفتری حکم دیا تھا۔  

صدرڈاکٹر مسعود پزشکیان نےامریکا کے اس دعوے کو بھی کہ علاقے میں ایران بدامنی اور کشیدگی کا باعث ہے، سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل ہے جو  لبنان، غزہ، عراق ، قطر اور جہاں اس کا دل چاہتا ہے، حملہ کرتاہے، دہشت گردی اوربے گناہ انسانوں کو قتل کرتا ہے اور اپنے حملوں کی توجیہ میں امن و سلامتی کے تحفظ کی بات کرتا ہے جبکہ اس کے حملے، علاقے میں جنگ اور بدامنی کا باعث ہیں۔    
 صدرڈاکٹرمسعود پزشکیان نے ایران کے خلاف امریکا اور صیہونی حکومت کے غیر قانونی اورغیر انسانی جارحانہ اقدامات کو افسوسناک قرار دیا اور ان کی مذمت کی ۔

  صدر پزشکیان نے ہندوستانی وزیر اعظم کے ساتھ اس ٹیلیفونی گفتگو میں، مغربی ایشیا میں، امن و ثبات قائم کرنے کے لئے، علاقائی ملکوں کی مشارکت سے اور بیرونی مداخلت کے بغیر ایک سیکورٹی نظام قائم کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

 انھوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ امریکا اور صیہونی حکومت کے حملے فوری طور پر بند ہوں اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ جارحیت کی تکرار نہیں ہوگی۔

 صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں اس بات کے پیش نظر کہ اس وقت برکس کی صدارت ہندوستان کے پاس ہے، ایران کے خلاف جارحیت بند کرانے اور علاقے نیز پوری دنیا میں سیکورٹی اور امن و استحکام قائم کرنے کے لئے، برکس کے مستقل کردار کا مطالبہ کیا۔

   ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ایران کے ساتھ اس ٹیلیفونی گفتگو میں، صدر مملکت، حکومت اور ایرانی عوام  کو عیدالفطر اور عید نوروز کی مبارکباد پیش کی اور ایرانیوں کے لئے امن و سکون سے سرشار سال کی آرزو کی۔  

 انھوں نے مغربی ایشیا میں جنگ اورکشیدگی  بڑھنے پر اپنے ملک کی گہری تشویش کا اظہارکیا اورعلاقے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کی مذمت کی ۔

ہندوستان کے وزیر اعظم نے اسی کے ساتھ آبنائے ہرمز میں سلامتی برقراررہنے نیز خلیج فارس میں جہازرانی کی آزادی کی ضرورت پر زوردیا۔

 مسٹر مودی نے کہا کہ جنگ کے راستے کا انتخاب کسی  کے بھی فائدے میں نہیں ہے لہذا سبھی فریقوں کو جلد سے جلد امن وآشتی کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha