بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران نے اعلان کیا: وحشی صہیونی ریاست کی شرارتوں کے مرکز "تل ابیب" کو ـ معرکۂ وعدہ صادق-4 کی اکسٹھویں لہر ـ کوڈ نیم "یا ابا عبداللہ الحسین(ع)" کے ساتھ ڈاکٹر شہید علی لاریجانی کے کے خون کا بدلہ لینے کی غرض سے کئی وارہیڈز کے حامل "خرمشہر-4" میزائلوں، کئی وار ہیڈز کے حامل "قدر" میزائلوں، "عماد" اور "خیبر شکن" ـ میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بجلی کی سی تیز رفتار ناگہانی اور شدید حملوں میں خرمشہر-4 اور قدر میزائلوں نے ـ دشمن کے کئی پرتوں والے دفاعی نظام کے منہدم ہونے کی بنا پر، کسی رکاوٹ کے بغیر ـ مقبوضہ سرزمیں میں 100 فوجی اور سیکورٹی مراکز کو کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا۔
فیلڈ انفارمیشن کے مطابق، سپاہ پاسداران کی ایرواسپیس کے اس ناگہانی حملے میں تل ابیب کے کئی علاقوں کی بجلی منقطع ہوئی، اور حالات کو قابو رکھنے اور امداد رسانی جیسے امور اسرائیلی حکومت کے لئے پہلے سے زیادہ دشوار ہو گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاع یہ ہے کہ اس حملے کے پہلے لمحوں کے تخمینوں کے مطابق، 230 صہیونی ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔
ادھر الجزیرہ نے روئٹرز کے حوالے سے لکھا ہے کہ صہیونی وزیر اعظم ایران کے درست نشانے پر لگنے والے میزائل کا نشانہ بن کر جہنم واصل ہو گیا ہے۔

گوکہ کئی دنوں سے نیتن یاہو کی ہلاکت یا زخمی ہونے کے بارے میں خبریں گردش کر رہی ہیں اور اس کی صحت کے بارے میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں لیکن اس خبر کی صہیونی ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ سپاہ پاسداران کے اس اعلان کے بعد کہ ایرانی اسپیشل فورسز کے کچھ جوانوں نے ایک کامیاب آپریشن میں صہیونی کابینہ کے ایک اہم وزیر کو ہلاک کر دیا ہے ـ کہا جاتا ہے کہ صہیونی وزیر جنگ اسرائیل کاٹز بھی فی النار ہو چکا ہے۔
ادھر اسرائیلی ذرائع نے بدھ کی رات کے ایرانی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کل کی رات شدید ترین رات تھی جو اسرائیل نے آج تک دیکھی ہے"،
ـــــــــــــــــــــــــ
110
آپ کا تبصرہ