5 مارچ 2026 - 14:25
مآخذ: ابنا
نئے رہبر کے انتخاب کا عمل جاری، سوشل میڈیا کی قیاس آرائیاں بے بنیاد

مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن آیت اللہ محسن قمی نے کہا ہے کہ نئے رہبر کے انتخاب کا عمل آئینِ ایران کے مطابق آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ محسن قمی نے ایک ٹیلی ویژن گفتگو میں کہا کہ نئے رہبر کے انتخاب کی کارروائی آئین اور مجلس خبرگان کے داخلی ضوابط کے مطابق جاری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر توجہ دینے کے بجائے مستند معلومات صرف مجلس خبرگان کی قیادت سے حاصل کریں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مجلس خبرگان آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے تاکہ جلد از جلد نئے رہبر کا انتخاب کر کے قوم کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

دوسری جانب مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ احمد خاتمی نے ایک الگ ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ملک میں عبوری قیادت کا نظام قائم ہے اور ریاستی امور معمول کے مطابق جاری ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ جنگی حالات کی وجہ سے نئے رہبر کے انتخاب کے عمل میں کچھ وقت لگ رہا ہے، تاہم اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے اور ممکنہ امیدواروں کی نشاندہی بھی کی جا چکی ہے۔

یاد رہےکہ رہبر معظم کی شہادت کے  بعد آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت عارضی قیادت کی کونسل تشکیل دی گئی تھی تاکہ ریاستی امور میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔

آئین کے مطابق اس عبوری کونسل میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ حجت الاسلام غلام حسین محسنی اژه‌ای اور مجمع تشخیص مصلحت نظام کی جانب سے منتخب فقہائے شورای نگہبان کے رکن آیت اللہ علیرضا اعرافی شامل ہیں، جو نئے رہبر کے انتخاب تک عارضی طور پر رہبری کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha