اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امتِ مسلمہ اور ملتِ ایران کیلئے اس نازک مرحلے میں اتحاد و یکجہتی کا تحفظ ایک شرعی فریضہ ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کی شہادت پر تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔ جس کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
«وَ بَشِّرِ اَلصّٰابِرِینَ اَلَّذِینَ إِذٰا أَصٰابَتْهُمْ مُصِیبَةٌ قٰالُوا إِنّٰا لِلّٰهِ وَ إِنّٰا إِلَیْهِ رٰاجِعُون»
امتِ بزرگ اسلام، حق کے طلبگار افراد اور ملتِ شریف و باوقار ایران! ایک بار پھر انسانیت کے بدترین دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم ظاہر کرتے ہوئے رہبر انقلاب اور استکبارِ عالمی کے خلاف جدوجہد کے علمبردار کو مکتبِ اہل بیت (ع) کی راہ میں شہید کر دیا۔
وہ بیدار اور شجاع رہبر جنہوں نے اپنی پوری زندگی انقلاب اسلامی کے راستے میں مشکلات، دباؤ اور حوادث کے طوفانوں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا، بالآخر اپنے دیرینہ آرزو تک پہنچ گئے اور شہداء کے قافلے سے جا ملے۔ «فَمِنْهُمْ مَنْ قَضیٰ نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِر».
اگرچہ یہ سانحہ نہایت سنگین ہے لیکن تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ راہِ حق میں جدوجہد کی ہمیشہ عظیم قربانیوں سے آبیاری ہوتی رہی ہے اور ایسی شہادتیں عزت و استقلال کی قیمت اور روشن مستقبل کی تمہید ہوتی ہیں۔
اس حساس اور فیصلہ کن مرحلے پر ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی چند اہم نکات کی جانب توجہ ضروری ہے:
1۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ کی قدرت تمام طاقتوں سے بالا و برتر ہے۔ مشکلوں کے اس دور میں اپنے اندر کسی بھی قسم کی کمزوری کو جگہ نہ دیں کیونکہ اللہ کی مدد کا وعدہ سچا ہے۔ «إِنْ تَنْصُرُوا اَللّٰهَ یَنْصُرْکُم».
2۔ جس طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد امت کو ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی، (وَ مٰا مُحَمَّدٌ إِلاّٰ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ اَلرُّسُلُ أَ فَإِنْ مٰاتَ أَوْ قُتِلَ اِنْقَلَبْتُمْ عَلیٰ أَعْقٰابِکُمْ وَ مَنْ یَنْقَلِبْ عَلیٰ عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَضُرَّ اَللّٰهَ شَیْئاً) اسی طرح دینی رہنماؤں کی شہادت بھی ارادوں میں کمزوری کا سبب نہیں بننی چاہئے۔ یہ انقلاب کسی ایک فرد پر موقوف نہیں بلکہ ایک مضبوط اور شجرہ طیبہ کی مانند ہے جو «إن الله مع المتقین» سے تمسک کرتے ہوئے ہمیشہ پائیدار اور ان شاء اللہ سرسبز رہے گا۔
3۔ مجلس خبرگانِ رہبری پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئینِ جمہوریہ اسلامی ایران کے مطابق فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے کیونکہ ان کا فیصلہ شرعاً اور قانوناً "فصل الخطاب" اور حتمی حیثیت رکھتا ہے۔
4۔ تمام سرکاری اداروں اور ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ دانشمندانہ تدبیر کے ساتھ ملک کے امور کو سنبھالیں اور عوامی زندگی اور امن و امان میں خلل نہ آنے دیں۔
5۔ موجودہ حالات ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے پوری قوت اور حکمت کے ساتھ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں۔
6۔ یاد رکھیں کہ ہماری کامیابی کا راز ہمارا اتحاد ہے۔ اپنی صفوں میں یکجہتی قائم رکھنا اور دشمن کی افواہ سازی کا مقابلہ کرنا سب کی شرعی ذمہ داری ہے۔
7۔ ملتِ ایران اور عالمِ اسلام رہبرِ شہید کے خون کا بدلہ لینے کا حق رکھتے ہیں اور اس جرم کے اصل ذمہ دار امریکہ اور صہیونی حکومت ہے۔ ان شاءاللہ ان خبیثوں کے شر سے بہت جلد دنیا کو نجات ملے گی۔
8۔ دعا اور توسل سے ہرگز غافل نہ ہوں۔ ہم اپنے امامِ حیّ و ناظر کی عنایت کے سائے میں ہیں، وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہمارا دل مغموم ہے لیکن ہم اللہ کی نصرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔
آخر میں، میں رہبرِ بزرگوار انقلاب، ان کے رفقاء اور ملک کے معصوم و مظلوم شہداء کی شہادت پر امامِ زمانہ (عج)، تمام مسلمانوں اور خصوصاً ملتِ ایران کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور شہداء کیلئے بلندیٔ درجات اور پسماندگان کیلئے صبر و اجر کی دعا کرتا ہوں۔
والسلام علی عباد اللہ الصالحین
قم - ناصر مکارم شیرازی
آپ کا تبصرہ