بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹیکساس میں میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی جنگ میں مداخلت نہیں کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عزت کرتا ہوں، اس ملک کے پاس عظیم قیادت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ان کی اچھی بات چیت ہے، دونوں دنیا کے ایسے رہنما ہیں، جن کا وہ بہت احترام کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتے کی بات:پاکستان میڈیا نے اپیسٹین کے ساتھی ٹرمپ کی طرف فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی تعریفوں پر بڑی خوشی منائی ہے، جو کہ واقعتا خوشی کا باعث نہیں ہیں، کیونکہ اخلاقیات کے حامی لوگ ایک غیر اخلاقی شخص کی طرف سے کی گئی ایسی تعریفوں کو نقص سمجھتے ہیں نہ کہ کمال۔ لیکن اس سے بڑھ کر پاکستانی صحافت اس بات پر خوشی ہے کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھا کر رہا ہے!! کیونکہ یہی صحافت کل کلاں پورے ملک اور اس کے عوام کو افغان طالبان کی خطر قربانی کا بکرا بنانے کے لئے تیار تھی اور آج اختلاف ہوگئے ہیں تو یہ صحافت مصالحت پر زور دینے کے بجائے اور اس جنگ کو اتحاد بین المسلمین کے لئے نقصان دہ سمجھنے کے بجائے، مسلسل جنگ کا ڈھول پیٹ رہی ہے۔
اور ہاں! سوال یہ ہے کہ کیا یہی ایک بات کسی کا ضمیر جاگنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ ٹرمپ جیسا اسلام دشمن عنصر اس جنگ کو ہوا دے رہا ہے؟
اور ہاں! دشمن خوش نہ ہو مسلمانوں کی باہمی لڑائی پر تو کون خوش ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ