23 فروری 2026 - 18:00
مآخذ: ابنا
نوری المالکی کاوزارتِ عظمیٰ کی امیدواری سے دستبردار ہونے سے انکار

عراق کے سابق وزیر اعظم اور ریاستِ قانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنی امیدواری سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود وہ اس منصب کے لیے نامزدگی واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے سابق وزیر اعظم اور ریاستِ قانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنی امیدواری سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود وہ اس منصب کے لیے نامزدگی واپس لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نوری المالکی نے کہا کہ وہ امریکا کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ عراق میں اسلحہ صرف ریاست کے کنٹرول میں ہوگا اور حکومت کی رٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ بغداد اور تہران کے تعلقات باہمی مفادات پر مبنی ہیں اور یہ روابط عراق کی خودمختاری کے دائرے میں ہیں۔

نوری المالکی کا کہنا تھا کہ وہ ایک جمہوری عراق پر یقین رکھتے ہیں جو امریکا اور یورپی ممالک سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرے۔ ان کے مطابق ایسے اقتصادی تعلقات بنیادی ڈھانچے، تعلیم، خدمات اور توانائی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ سیاسی عمل کو مستحکم کیا جائے اور درست تجربات کو آگے بڑھایا جائے۔

ادھر  امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فار  پر ایک پیغام میں نوری المالکی کی ممکنہ واپسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو امریکا عراق کے لیے امداد روک سکتا ہے۔

اس بیان کے بعد بعض حلقوں میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ نوری المالکی اپنی امیدواری واپس لے سکتے ہیں، تاہم ان کے حالیہ بیان نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کر دی ہے۔ مزید برآں عراقی میڈیا رپورٹس کے مطابق جریان حکمت ملی عراق نے ایک بیان میں اس خبر کی بھی تردید کی ہے کہ اس کے سربراہ عمار حکیم کسی چار فریقی معاہدے کے تحت نوری المالکی کی نامزدگی واپس لینے پر آمادہ ہوئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha