15 جون 2009 - 19:30

مصر کے مفتی اعظم شیخ "علی جمعہ" نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی فقہ کے مطابق عبادات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ «ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ شیعیان اہل بیت (ع) ہم سے سبقت لے گئے ہیں.

ابنا کی رپورٹ کے مطابق مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ نے العربیہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگوں کی کوشش ہے کہ شیعہ اور سنی تعلقات کو بگاڑدیں اور مسلمانوں کے اتحاد پر ضرب لگائیں تا کہ اس طرح وہ مسلم امت کو تہس نہس کردیں. اسی بنا پر میں فتوا دیتا ہوں کہ شیعہ فقہ کے مطابق اعمال و عبادات بجا لانا جائز ہے.

انہوں نے کہا کہ شیعیان اہل بیت (ع) ہم سے سبقت لے گئے ہیں اسی وجہ سے ہم ان کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں کیونکہ جب تک شیعہ اور سنی کا قبلہ واحد ہے ان کے درمیان کوئی فاصلہ اور کوئی فرق نہیں ہے. اہل تشیع تاریخ اسلام کی ابتداء سے ہی مسلم امہ کا جدائی ناپذیر جزء ہیں.

شیخ "علی جمعہ" نے کہا: مذہب تشیع کے پیروکار درحقیقت ایک پیشرفتہ اور ترقی یافتہ مکتب کی پیروی کررہے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اختلاف ڈالنے کی غرض سے اہل تشیع کی بہت پرانی کتابوں کا حوالہ دیتے ہیں اور ان کتابوں سے بعض اختلاف انگیز باتیں استخراج کرکے تشیع کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں.

مصر کے مفتی اعظم نے کہا: بعض سیاسی نظام ہائے حکومت جنہیں وہابیوں کی حمایت حاصل ہے، اپنی پوری قوت صرف کرکے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف ڈالنے کی سازشیں کررہے ہیں.

شیخ علی جمعہ کا یہ نہایت شجاعانہ اقدام درحقیقت سابق شیخ الازہر شیخ "محمود شلتوت" کے تاریخی فتوے کا تسلسل ہے جنہوں نے اس زمانے کے شیعہ عالم دین سیدشرف الدین العاملی کے ساتھ 3 سالہ طویل مناظرے کے بعد تشیع کو اسلام کا جزء قرار دیتے ہوئے فقہ جعفریہ کو تسلیم کیا اور فتوی دیا کہ شیعہ فقہ کے مطابق اعمال و عبادات کی انجام دہی میں کوئی حرج نہیں ہے.

شیخ على جمعہ نے کہا کہ سابق شیخ الازہر اور مصری مفتی شیخ محمود شلتوت ا فتوی اس وقت بھی معتبر ہے جنہوں نے تشیع کی پیروی کو جائز قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ سارے شیعہ اور سنی ایک قسم کی نماز پڑھتے ہیں اور ایک ہی قبلے کی طرف کھڑے ہوتے ہیں.