21 فروری 2026 - 20:16
اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیجئے + تیسرے پارے کی تلاوت

قرآن ایک ایسے لین دین کی بات کرتا ہے جس میں 'عطا کرنا' کا مطلب 'کم ہونا' نہیں ہے، بلکہ برکت اور اضافہ ہے. وحی کی منطق میں، ایک دانے کو سات سو گنا بڑھایا جا سکتا ہے، اور سرمایہ الہی نظام میں خرچ کرنے سے، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سورہ بقرہ کی آیت نمبر 253 سے آخر تک اور سورہ آل عمران کی آیات 1 سے 92 تک قرآن مجید کے تیسرے پارے کی آیات ہیں۔

وہ آیات جو توحید، نبوت، معاشرتی نظام اور ایمان کے اشارات کے مربوط مجموعہ کا خاکہ پیش کرتی ہیں، اور ان میں سے البقرہ کی آیات 261 اور آل عمران کی 92 آیتیں خرچ اور حقیقی انسانی ترقی کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

سورہ بقرہ کی آیت 253، انبیاء کے درجات میں فرق اور ہدایت کی الٰہی روایت

تیسرا حصہ 'انبیاء کی صفوں میں فرق' کے بیان سے شروع ہوتا ہے۔ علامہ طباطبائیؒ المیزان میں تصریح کرتے ہیں کہ اس فرق کا مطلب دعوت کے اصولوں میں فرق نہیں ہے، بلکہ مشن اور تاریخی حالات کے فرق سے پیدا ہوتا ہے۔ تمام انبیاء نے توحید کی طرف بلایا، لیکن کچھ کو مشن کی وسعت یا منفرد خصوصیات کی وجہ سے ایک ممتاز مقام دیا گیا۔ یہ آیت پوری تاریخ میں 'ہدایت کے دھارے کی وحدت' کے ادراک کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے۔

سورہ بقرہ آیت 255 آیت الکرسی

آیت الکرسی خدا کی حکمرانی اور سرپرستی کی سب سے جامع وضاحت ہے۔ المیزان میں بیان ہؤا ہے کہ یہ آیت میں ایک مربوط ڈھانچے پر مشتمل ہے، خدا کی حیاتِ مطلقہ، تمام مخلوقات و موجودات پر اس کی ولایت و حکمرانی، اس کا ہمہ گیر علم، اور خدا کے اذن کے بغیر کی شفاعت کی نفی ہے۔

اس توحید کا نتیجہ کائنات میں کسی بھی خود ساختہ طاقت کی نفی ہے۔ یہ تصویر تمام انسانی احکام اور ذمہ داریوں کی بنیاد ہے کیونکہ جب حقیقی مالک خدا ہے تو انسان کو بھی اس کی مرضی کے دائرے میں چلنا چاہئے۔

سورہ بقرہ کی آیت 256، ایمان کی آزادی اور جبر کا انکار

آیت "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ" اختیار (اور مرضی) کے بنیادی اصول کو برقرار کرتی ہے۔ علامہ طباطبائیؒ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایمان دل اور شناخت و ادراک کا معاملہ ہے جو جبر و زبردستی سے جوڑ نہیں رکھتا اور دین اس وقت عملی صورت اختیار کرتا ہے جب حق کو باطل سے واضح کر دیا جائے اور انسان [صرف] شعوری طور پر اسے اختیار کرتا [اور کر سکتا] ہے۔ اس نظریئے سے عیاں ہوتا ہے کہ دینی معاشرہ قائل کرنے اور استدلال لانے پر استوار ہے۔

سورہ بقرہ کی آیت 260، ابراہیم (علیہ السلام) کی کہانی میں یقین کی شدت

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے مُردوں کے جی اُٹھنے کی کیفیت کو دیکھنے کی درخواست والے کے قصے میں، علامہ طباطبائیؒ بیان کرتے ہیں کہ یہ سوال شک و شبہے کی رو سے نہیں تھا، بلکہ یقین کے اعلیٰ درجے تک پہنچنے کے لئے تھا۔ اس آیت میں قرآن ایمان کے ـ علم سے وجدان و شہود تک کے ـ سفر کی تصویر کشی کرتا ہے اور یہ نمایاں کرتا ہے کہ ایمان کے مراتب (اور سطوح) حرکت پذیر ہیں۔

البقرہ کی آیت نمبر 261، خیرات کے کئی گنا بڑھنے کا قانون

اناج کے ایک دانے اور سات خوشوں کی تمثیل، خیر کے اعمال کی نشوونما کے حوالے سے ایک الہی روایت کا اظہار کرتی ہے۔ علامہ طباطبائیؒ اس آیت کو ایک 'حقیقی قانون کا اعلان' قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ الٰہی نظام میں اعمال صالحہ صرف اپنی مادی شکل تک محدود نہیں ہیں، بلکہ معاشرے کی وسعتوں میں پھیلتے ہیں اور کئی تہوں پر مشتمل اثرات مرتب کرتے ہیں۔

عدد سات سو '700' کثرت کی علامت ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ الہی اجر و پاداش عام حساب کتاب سے باہر ہے۔ اس ضرب (ازدیاد ، بڑھوتری = Multiplication) کے روحانی پہلو بھی ہیں اور سماجی پہلو بھی، کیونکہ عطا کرنے اور بخشنے سے غربت کم ہوتی ہے اور یکجہتی مضبوط ہوتی ہے۔

آیات 275 تا 282 ربا (سود) کا مقابلہ اور معاشی انصاف کی تقویت

سورہ بقرہ کے آخر میں سود کی سخت ممانعت ہوئی ہے۔ علامہ طباطبائیؒ سود کو اقتصادی توازن میں خلل ڈالنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، کیونکہ خطرہ قبول کئے بغیر منافع کی ضمانت معیشت کے فطری گردش میں خلل ڈالتی ہے۔ اس کے برعکس، آیتِ دَیْن لین دین اور خرید و فروخت کو صحیح طریقے سے لکھنے اور ثبت و ضبط کرنے پر زور دیتی ہے۔ آیات کا یہ مجموعہ واضح کرتا ہے کہ قرآن روحانیت کے علاوہ قانونی ضابطوں اور معاشی انصاف کو بھی سنجیدگی سے توجہ دیتا ہے۔

قرآن کی مرجعیت اور ادیان کا تسلسل

سورہ آل عمران کے آغاز میں کتاب (قرآن) کے نزول اور تورات و انجیل کی تصدیق پر زور دیا جاتا ہے۔ علامہ طباطبائیؒ اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ قرآن سابقہ ​​کتابوں کا مہیمن (اور حافظ) ہے۔ یعنی، ان کی تصدیق بھی کرتا ہے اور ان جانچ پرکھ کا پیمانہ بھی ہے۔ آیات کو محکم اور متشابہ میں تقسیم کرنا بھی قرآنی تعلیمات کی گہرائی اور متشابہ کے ادراک کے لئے محکم کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔

آل عمران کی آیت 85، کی رو سے اسلام ہی خدا کے لئے واحد قابل قبول راستہ

آیت 85 واضح کرتی ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے گا وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ علامہ طباطبائیؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اسلام کا مطلب خدائی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے چنانچہ یہ صرف ایک خارجی عنوان نہیں ہے۔ ان کے مطابق ہر زمانے میں [آدمؑ سے خاتمؐ تک] دین کی حقیقت، ایک ہی ہے اور وہ ہے خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ آخری پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت کے بعد، یہ تسلیم (اور یہ سرخم کرنا) آپؐ کی شریعت کے دائرے میں بامعنی ہو جاتی ہے۔

سورہ آل عمران کی آیت 92: اسی چیز کی خیرات دو جس سے تم محبت کرتے ہو

آیت 92 میں حقیقی نیکی کے حصول کی شرط کو اس چیز کی خیرات و عطائیگی قرار دیا گیا ہے جو مالک کے نزدیک پسندیدہ اور محبوب ہو۔ علامہ طباطبائیؒ وضاحت کرتے ہیں کہ "بَر" (نیکی) واجبات پر ظاہری عمل سے آگے کا مرحلہ ہے؛ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان اندرونی وابستگیوں سے گذر جاتا ہے اور انہیں پیچھے چھوڑتا ہے۔

سب سے پیارا مال دوسروں کو عطا کرنا ایمان کی سچائی اور ذاتی لگاؤ اور وابستگیوں سے آزاد ہونے کی علامت ہے۔ یہ آیت سورہ بقرہ کی آیت 261 کے ساتھ مل کر، بتاتی ہے کہ حقیقی انسانی نشوونما کا دارومدار شعوری اور مخلصانہ عطا و خیرات پر ہے۔

تیسرے پارے کی آیات توحید، اختیار و انتخاب، یقین، معاشی انصاف اور ایمان کے اشارے کا ایک ہم آہنگ نظام پیش کرتی ہیں۔ اس نظام میں، خیرات کو ایک نمایاں مرتبہ حاصل ہے، لیکن یہ توحیدی تعلیمات کے وسیع تر نظام کے کے دائرے میں بامعنی ہو جاتی ہے۔

تفسیر المیزان کے مصنف علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ کے تجزیے کے مطابق، یہ تمام تعلیمات ایک اصول سے جنم لیتی ہیں: 'خدا کی مطلق حکمرانی اور اللہ کے سامنے تسلیم کی راہ پر انسان کی شعوری طور پر گامزن ہونا'، جس کا پھل انفرادی ترقی، سماجی انصاف اور حتمی کمال و ارتقاء ہے۔

تیسرے پارے کی تلاوت دیکھئے اور سنیے:
 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha