17 اپریل 2010 - 19:30

رہبری اور ولایت امام خمینی رحمۃالله علیہ کی نظر میں

دو بنیادی شرطیں: وہ شرائط جو زعامت اور رہبری کیلئے ضروری ہیں ان کا سر چشمہ براہ راست حکومت اسلامی کے انداز طبیعت سے ظاہر ہوتا ہے عقل و تدبیر جیسی عام شرائط کے علاوہ دو بنیادی شرطیں ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

1. قانون کے بارے میں علم و آگاہی کا ہونا

2. عدالت کا ہونا

جیسا کے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی رحلت کے بعد اس بات میں اختلاف پیدا ہوگیا تھا کہ منصب خلافت کس کو سنبھالنا چاہیے لیکن اس کے با وجود مسلمان اس بات پر متفق تھےکہ منصب خلافت پر فائز ہونے والے شخص کو عالم وفاضل اور آگاہ ہونا چاہیے اختلاف صرف دو موضوعات میں تھا:

1.  چونکہ اسلام کی حکومت قانون کی حکومت ہے لہذا رہبر و زعیم اور حاکم کیلئے قانون کے بارے میں علم و آگاہی ضروری ہے جیسا کے روایات میں بھی وارد ہوا ہے صرف رہبر و حاکم کیلئے ہی نہیں بلکہ تمام افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ جس کام اور مقام پر فائز ہوں اس کے بارے میں علم و آگاہی رکھتے ہوں البتہ حاکم ورہبر کیلئے ضروری ہے کہ وہ علمی میدان میں سب سے افضل و اعلی ہو ہمارے آئمہ (ع) اپنی امامت کیلئے اسی مطلب کو استدلال کے طور پر پیش کرتے تھے کہ امام کو دوسروں سے افضل ہونا چاہیے شیعہ علماء نے دوسروں پر جو اعتراضات وارد کئے ہیں وہ بھی اسی امر سے متعلق ہیں کہ جب فلاں حکم کے بارے میں خلیفہ سے معلوم کیا گیا تو خلیفہ اسکا جواب نہ دے سکے پس وہ امامت اور خلافت کے لائق و سزاوار نہیں ہے فلاں کام کو اسلامی احکام کے خلاف انجام دیا لہذا خلافت و امامت کےلائق نہیں ہے۔۔۔(1)

مسلمانوں کی نظر میں رہبر کے لئے قانون سے واقفیت اور عدالت دو بنیادی رکن اور شرائط ہیں اور اسمیں دوسرے امور کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے مثلا ملائکہ کے علم کی کیفیت کے بارے میں ، صانع تبارک و تعالی کے علم کے بارے میں کہ وہ کن اوصاف کا حامل ہے ، ایسے علوم کا امامت کے موضوع میں کوئی دخل نہیں ہے چنانچہ اگر کوئی تمام طبیعی علوم کے بارے میں معلومات فراہم کرلے اور طبیعت کی تمام قوتوں کو کشف کرلے یا میوزک کے بارے میں خوب جان لے پھر بھی اس میں خلافت کے منصب پر فائز ہونےکی صلاحیت و لیاقت پیدا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کو ان لوگوں پر افضلیت اور برتری حاصل ہو سکتی ہے جو اسلام کے قانون کو جانتے ہیں اور عادل ہیں اور حکومتی امور کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

جو چيز خلافت سے متعلق ہے اور رسول اکرم(ص) اور ہمارے آئمہ (ع) کے زمانے میں اسکے بارے میں بحث اور گفتگو ہوتی رہی ہے اور مسلمانوں کے درمیان بھی مسلّم امر رہا ہے وہ یہ ہے کہ اوّلا حاکم اور خلیفہ کو اسلام کے احکام کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے یعنی اسے اسلامی قانون کا ماہر ہونا چاہیے دوسرے یہ کہ اسےعادل ہونا چاہیے اور اعتقادی اور اخلاقی کمال کا حامل ہونا چاہیے۔ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ اسلام کی حکومت قانون کی حکومت ہے نہ اس میں جاہ طلبی و خود غرضی اور نہ ہی اشخاص کی عوام پر حکومت کی کوئی گنجائش ہے۔

جو رہبر اورحاکم قانونی مطالب سے آگاہ نہ ہو وہ حکومت کے لائق وسزاوار نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر وہ تقلید کرے گا تواس سےحکومت کی طاقت وقدرت مضمحل اور کمزور ہو جائے گي اور اگر تقلید نہیں کرےگا تو اسلام کے قانون کاحاکم اور مجری نہیں بن سکتا اور یہ بات مسلّم ہے کہ (( الفقہاء حکام علی السلاطین )) " فقہاء سلاطین پر حاکم ہیں " (2) سلاطین اگر اسلام کے تابع ہیں تو انکے لیئے ضروری ہے کہ وہ فقہاء کی اطاعت اور پیروی کریں اور اسلامی قوانین اور احکام کو فقہاء سے معلوم کرکے جاری کریں اس صورت میں حقیقی حکام وہی فقہاء ہیں لہذا ضروری ہے کے حاکمیت سرکاری طور پر فقہاء کے ہاتھ میں رہے نہ کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں رہنی چاہیئے جو نادانی اور جہل کی بنا پر فقہاء کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں

2- رہبر اور حاکم کو اخلاقی اقدار اور اعتقادی کمال کا حامل اور عادل ہونا چاہیے جو شخص حدود الہی یعنی اسلامی سزاؤوں کوجاری کرے گا اور بیت المال میں دخل اور تصرف کرنے کے امور کو سنبھالے گا اور حکومت کا نظام اپنےہاتھ میں لے گا اورخداوندمتعال اسکواپنے بندوں پرحکومت کا اختیار بخشےگا اسکو گناہکار اور بد کردار نہیں ہونا چاہیے (( و لا ینال عہدی الظالمین )) (3) خداوند ظالم اور گنہکار کو ایسا حق و اختیار عطا نہيں کرتاہے۔

حاکم اگرعادل نہیں ہوگا تواس صورت میں وہ مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے ، مالیات وصول کرنے اور انکو صحیح طریقے سے مصرف کرنے اور قانون کو صحیح طور پر اجراء کرنے میں عدل وانصاف کا لحاظ نہیں رکھےگا اور ممکن ہے وہ اپنے خاندان والوں ، قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو معاشرے پر مسلط کردے اور مسلمانوں کے بیت المال کو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کیلئے مصرف کرنے میں مشغول ہوجائے (4)

مرجعیت کی شرط ضروری نہیں ہے :

میرا ابتدا ہی سے اس بات پر اعتقاد تھا کہ مرجعیت کی شرط ضروری نہیں ہے وہ مجتہدکافی ہےجوعادل ہے اور جسکو ملک کی خبرگان کونسل کی تایید حاصل ہے عوام نے خبرگان کونسل کے نمائندوں کو اس لئے ووٹ دیا ہے کہ وہ انکی حکومت کیلئے رہبر معین کریں اور جب خبرگان کسی شخص کو رہبری کیلئے معین و منتخب کریں گے تو اسکی رہبری و زعامت عوام کے لئے مورد قبول ہوگی اور اس صورت میں وہ عوام کا منتخب ولی بن جائے گااور اسکا حکم نافذ العمل ہوگا۔ (5)

رہبری کے نمونے

رہبر عدالت میں:

صدر اسلام میں دو ادوار میں دو مرتبہ اسلام کی اصلی حکومت محقق اور قائم ہوئی ہے ایک مرتبہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے دور میں اوردوسری مرتبہ حضرت علی (علیہ السلام) کے دور میں جب وہ کوفہ میں حاکم تھے ان دو ادوار میں معنوی قدریں حاکم تھیں یعنی عدل و انصاف پر مبنی حکومت بر قرار تھی اور حاکم ایک ذرہ برابر بھی قانون کے خلاف عمل نہیں کرتا تھا ان دو دوروں میں قانون کی حکومت رہی ہے اور شاید اسکے علاوہ ہم کبھی بھی اس طرح کی قانون کی حکومت تلاش نہ کرسکیں گےایسی حکومت جسکا ولی امر(( جسے آج کی اصطلاح میں صدر یا سلطان سے تغبیر کرتے ہیں)) قانون کے مقابلے میں معاشرے کی نچلی سطح کے فرد کے مساوی اور برابر ہو صدر اسلام کی حکومت میں ایسا رہا ہے حتی تاریخ میں حضرت علی (علیہ السلام) کا ایک واقعہ بھی موجود ہے : کہ جب حضرت علی (علیہ السلام) حاکم تھے اور انکی حکومت حجاز سے لیکر مصر اور ایران تک پھیلی ہوئی تھی اور گورنر و قضات سبھی ان کی طرف سے منصوب اورمعین ہوتے تھے ایک دفعہ ایک یمنی نے حضرت علی (علیہ السلام) کے خلاف مقدمہ دائر کیا وہ یمنی بھی آپکی حکومت کا ایک فرد تھا قاضی نے حضرت علی (علیہ السلام) کو طلب کیا قاضی بھی وہ تھا کہ جسکوخود حضرت علی (علیہ السلام) نے منصوب کیا تھا۔ حضرت علی (علیہ السلام) قاضی کے پاس پہنچے تو قاضی حضرت علی (علیہ السلام) کے احترام میں کھڑا ہونا چاہتاتھا امام (علیہ السلام) نے فرمایا کہ قضاوت میں تم ایک فریق کا احترام مت کرو میں اور میرا فریق دونوں مقدمہ میں برابر و مساوی ہیں اس کے بعد جب قاضی نے حضرت علی (علیہ السلام) کے خلاف حکم صادر کیا تو حضرت علی (علیہ السلام) نے خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا حکم قبول کر لیا۔

یہ ایسی حکومت ہے کہ جسکے قانون کے مقابلے میں سبھی مساوی اور برابر ہیں کیونکہ اسلام کا قانون الہی قانون ہے اور خداوند متعال کے سامنے سبھی مساوی اور برابر ہیں چاہے حاکم ہو یا محکوم چاہے پیغمبر (ص) ہو یا امام (ع) اور چاہے عوام(6)