اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے المناک خودکش بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، مذہبی رواداری، اسلامی اقدار اور معاشرتی امن پر کھلا اور وحشیانہ حملہ قرار دیا ہے۔
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے المناک خودکش بم دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، مذہبی رواداری، اسلامی اقدار اور معاشرتی امن پر کھلا اور وحشیانہ حملہ قرار دیا ہے۔
آغا صاحب نے اس بزدلانہ اور سفاک دہشت گردانہ کارروائی میں درجنوں بے گناہ نمازیوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت و تسلیت پیش کی، جبکہ اس سانحے میں سینکڑوں زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بارگاہ الٰہی میں دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر نہ صرف کسی خاص مسلک بلکہ پورے معاشرے کے امن، اتحاد اور استحکام کے دشمن ہیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں جیسی مقدس جگہوں پر معصوم نمازیوں کا خون بہانا ایک ناقابل معافی جرم ہے جو ریاستی رٹ، سلامتی کے نظام اور حکومتی ذمہ داریوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے حکومت پاکستان سے سخت اور دوٹوک مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اندوہناک واقعات پر محض رسمی بیانات اور نوٹس تک خود کو محدود نہ رکھے، بلکہ مذہبی و مسلکی اقلیتوں، بالخصوص شیعہ برادری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری، مؤثر اور ٹھوس عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس دہشت گرد حملے کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور مجرموں کو فوری طور پر بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی دشمن امن ایسی درندگی کی جرأت نہ کر سکے۔انہوں نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتیں مسلسل عدم تحفظ اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور اگر اس سنگین مسئلے کو سنجیدگی، دیانت داری اور ریاستی عزم کے ساتھ حل نہ کیا گیا تو ایسے دلخراش سانحات مستقبل میں بھی دہرائے جاتے رہیں گے۔
آغا صاحب نے واضح کیا کہ کسی بھی مہذب، ذمہ دار اور اسلامی ریاست کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلا امتیاز مذہب و مسلک مکمل تحفظ فراہم کرے اور عبادت گاہوں کی حرمت کو ہر صورت یقینی بنائے۔
آپ کا تبصرہ