اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی سیکیورٹی اداروں نے شہید سید حسن نصراللہ کے قتل سے بالواسطہ تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گرفتار شخص کا تعلق لبنان سے ہے اور وہ اسرائیلی رژیم کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔
لبنانی صحافی عبداللہ قمح نے ایک ویڈیو بیان میں انکشاف کیا کہ یہ شخص اس وقت لبنان کی جنرل سیکیورٹی کی تحویل میں ہے اور اس نے تفتیش کے دوران اہم اعترافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق، گرفتار فرد غیر شیعہ لبنانی ہے اور غزہ کی حمایت میں جاری جنگ کے دوران وہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں بار بار آتا جاتا رہا۔
قمح کے مطابق، ملزم کے پاس ایک خاص نوعیت کا آلہ موجود تھا جس کے ذریعے وہ جنوبی بیروت میں مخصوص مقامات پر جاتا تھا۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ یہ مقامات دراصل حزب اللہ کے زیرِ زمین ٹھکانوں، سرنگوں کے داخلی راستوں یا حساس تنصیبات سے متعلق تھے۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ آلہ زیرِ زمین تنصیبات کی گہرائی ناپنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، جس کے ذریعے اسرائیلی فوج کو ان مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے موزوں بموں کے انتخاب میں مدد فراہم کی گئی۔
عبداللہ قمح نے مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزم ان ہی علاقوں میں موجود تھا جہاں بعد میں شہید سید حسن نصراللہ کو نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ شہید سید حسن نصراللہ، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل، 27 ستمبر 2024 کو اسرائیلی فضائی حملے میں جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں حزب اللہ کے کئی اعلیٰ کمانڈر اور سردار عباس نیلفروشان (نائب کمانڈر آپریشنز، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) بھی شہید ہوئے تھے۔
اسی دوران، حزب اللہ کے ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ شہید سید ہاشم صفی الدین بھی 4 اکتوبر 2024 کو ایک علیحدہ اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔ شدید تباہی اور امدادی ٹیموں کی رسائی میں رکاوٹ کے باعث ان کی شہادت کی باضابطہ تصدیق بعد میں کی گئی۔
دونوں عظیم رہنماؤں کے جسدِ خاکی 23 فروری 2025 کو جنوبی لبنان میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے ساتھ سپردِ خاک کیے گئے۔
آپ کا تبصرہ