برطانوی اخبار سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ملا عمر اچھے آدمی ہیں اور افغانستان میں مہم جوئی نہیں امن چاہتے ہیں ۔ طالبان کے عروج و زوال پر گہری نظر رکھنے والے بریگیڈیئر سلطان تارڑ کا کہنا ہے کہ دبئی میں طالبان کے کچھ رہنماؤں کی اقوام متحدہ کے اہل کار سے ملاقات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ ملاقات کرنے والے طالبان رہنما غیر اہم تھے اور ان میں ملا عمر کی شوری ٰ کا کوئی رکن موجود نہیں تھا ۔ کوئی بھی بات چیت تب ہی کامیاب ہوسکتی ہے جب اس میں ملا عمر کی براہ راست شمولیت ہو ۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سلطان تارڑ کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانوں کی نفسیات کو جانتے ہیں ۔ رقم کے ذریعے یا مفاہمت کے نام پر طالبان کو تقسیم کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی ۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان جنگ جیتی نہیں جاسکتی کیونکہ اعتماد اور یقین کا فقدان ہے ۔ اگر امریکیوں کو اپنے مقصد پر یقین ہوتا تو وہ کامیابی حاصل کرسکتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے یہاں تک کہ ان کے اپنے فوجی بھی ناخوش ہیں ۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 177360
افغان امور کے ماہر سابق انٹیلی جنس افسر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سلطان عامر تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر افغانستان میں امن کیلئے القاعدہ سے تعلق ختم کرنے پر تیار ہیں ۔