اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام دسواں مرکزی سرمائی تعلیمی، تربیتی و فکری کارگاہ مطلعُ الفجر سنٹرل جموں بٹھنڈی میں واقع انجمنِ حسینی کے مشہور عزاء خانہ حضرت فاطمہ الزہرا(ع) میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ آٹھ روزہ کارگاہ 27 دسمبر 2025 سے 3 جنوری 2026 تک جاری رہا، جس کا بنیادی محور دینی، فکری اور اخلاقی تربیت رہا۔
جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام دسواں مرکزی سرمائی تعلیمی، تربیتی و فکری کارگاہ مطلعُ الفجر سنٹرل جموں بٹھنڈی میں واقع انجمنِ حسینی کے مشہور عزاء خانہ حضرت فاطمہ الزہرا(ع) میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ یہ آٹھ روزہ کارگاہ 27 دسمبر 2025 سے 3 جنوری 2026 تک جاری رہا، جس کا بنیادی محور دینی، فکری اور اخلاقی تربیت رہا۔
کارگاہ میں قریب 60 افراد نے شرکت کی، جن میں تقریباً 50 طلبہ شامل تھے۔ شرکاء کی یہ تعداد اس امر کی غماز ہے کہ نوجوان نسل دینی و فکری تربیت کی جانب سنجیدگی سے متوجہ ہو رہی ہے۔ کارگاہ کے دوران نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور علمی ماحول نہایت قابلِ تحسین رہا۔ کارگاہ میں متعدد ممتاز علمی و فکری شخصیات نے تدریسی خدمات انجام دیں، جن میں بیرون وادی سے آئے مشہور مبلغ ولایت و امامت عالیجناب مولانا اختر عباس جون صاحب (یوپی) عالیجناب مولانا منور حسین آغا صاحب(حیدرآباد)تعلیم و تربیت کے ماہر برادر روشن ضمیر (مظفر نگر)اور وادی کشمیر کے عالیجناب مولانا الطاف حسین میر (وکھرون) عالیجناب مولانا شوکت حسین (بمنہ)، عالیجناب مولانا بلال علی (سرینگر)، عالیجناب مولانا بشیراحمد بٹ صاحب قابلِ ذکر ہیں۔ اساتذہ کرام نے نہایت خلوص، بصیرت اور فکری گہرائی کے ساتھ مختلف اہم موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
کارگاہ کے دوران مختلف سیشنز، علمی مباحث اور گروپ ڈسکشنز منعقد کیے گئے، جن میں بالخصوص:موجودہ نظامِ تعلیم و تربیت کا تنقیدی جائزہ، اچھے استاد اور مثالی شاگرد کی صفات، اساتذہ اور طلبہ کی موجودہ خستہ حالی اور اس کے اسباب ،دینی و اخلاقی اقدار کے فروغ میں تعلیمی اداروں کا کردار، نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت کے عملی طریقے، سوشل میڈیا اور ثقافتی یلغار جیسے اہم اور عصری موضوعات زیرِ بحث آئے۔
علمی نشستوں کے ساتھ ساتھ شرکاء کی ذہنی تازگی اور باہمی ہم آہنگی کے لیے ایک دن کی سیر و تفریح کا بھی اہتمام کیا گیا، جس سے اخوت، نظمِ اجتماعی اور مثبت طرزِ فکر کو فروغ ملا۔
اسی طرح ایامِ میلاد کی مناسبت سے جشن و سرور کی محفلیں بھی منعقد ہوئیں، جن میں نعت و منقبت کے ذریعے روح پرور اور دینی جذبات سے لبریز فضا قائم رہی۔
کارگاہ کی اختتامی تقریب مولودِ کعبہ، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے یومِ ولادت کے موقع پر نہایت ہی سرور، وقار اور روحانیت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس موقع پر خصوصی مہمان کی حیثیت سے مبلغِ ولایت و امامت، علامہ شیخ غلام رسول نوری دامت برکاتہ نے شرکتکی اور اپنے بصیرت افروز خطاب میں نوجوانوں کو دین، اخلاق اور شعوری زندگی کی اہمیت کی جانب متوجہ کیا۔ مسجد امام رضا کے امام جمعہ عالیجناب مولانا سید زوار حسین صاحب نے بھی انجمن حسینی کی نمایندگی کے طور پرشرکت کی،کارگاہ کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے، جبکہ تمام شرکاء کو اعزازی اسناد دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
متاب جموں و کشمیر کے مسول جناب مولانا بشیر احمد بٹ صاحب نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارگاہ نہ صرف علمی و فکری اعتبار سے کامیاب رہی بلکہ نوجوانوں کی اخلاقی، دینی اور سماجی تربیت کے حوالے سے بھی ایک مؤثر اور بامقصد قدم ثابت ہوئی۔ انہوں نے اس بات کی جانب خصوصی توجہ دلائی کہ کارگاہ میں شریک طلبہ کی بڑی تعداد ایسے نوجوانوں پر مشتمل تھی جو تعلیم کے نہایت حساس مرحلے، یعنی نویں سے بارہویں جماعت اور کالج کی سطح میں داخل ہو چکے ہیں۔انہوں نے تمام اساتذہ کرام، مہانان خصوصی، شرکاء، رضاکاران ، خیرین اور ہرطرح کے تعاون کرنے والے مومنین و اراکین انجمن حسینی بٹھنڈی کا شکریہ ادا کیا۔
آپ کا تبصرہ