امریکی افواج کا وینزویلا پر چڑھائی کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ روس، چین، ایران اور کیوبا نے اسے ایک آزاد ریاست کی خودمختاری پر مجرمانہ حملہ قرار دیا ہے۔
مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کی صبح ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجیوں نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر حملہ کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جنہیں مادورو پہلے ہی ممکنہ حملے کا بہانہ قرار دے کر مسترد کر چکے تھے۔
امریکہ کی اس جارحیت پر دنیا بھر کے مختلف ممالک اور تنظیموں نے اپنے اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کا احترام کریں۔ جکارتہ نے اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔
اسی طرح ملائیشیا نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اصولی طور پر کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت اور طاقت کے استعمال کا مخالف ہے۔ چین نے امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک خودمختار ریاست کے خلاف طاقت کا صریح استعمال قرار دیا اور اپنے شہریوں کو فوری طور پر وینزویلا کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی۔
ایشیائی ممالک میں بھارت نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے روک دیا ہے، جبکہ جاپان نے کراکس میں واقع اپنے سفارت خانے میں ہنگامی ہیڈ کوارٹر قائم کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدر نے بھی ممکنہ انخلاء کے منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔
روس کی جانب سے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے روسی وفاقی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کونسٹنٹین کوساچوف نے کہا کہ وینزویلا سے امریکہ کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا، اس لیے یہ حملہ بے بنیاد اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ من مانے قوانین عالمی استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
لاطینی امریکہ کے ممالک میں کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے اس حملے کو مجرمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے امریکی جارحیت کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ دوسری جانب کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایسی یکطرفہ فوجی کارروائیوں کی مذمت کی جو عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
یورپی ممالک میں پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے اسے سال کا ایک بڑا دھچکا قرار دیا، جبکہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے وینزویلا میں مقیم ایک لاکھ ساٹھ ہزار اطالوی نژاد شہریوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ہسپانوی وزارتِ خارجہ نے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے تشدد کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے امن کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس فوجی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وینزویلا کی علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ تہران نے اس اقدام کو اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح طور پر جارحیت کا نام دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ