اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر علی لاریجانی نے کویت کے ائیرپورٹ پر صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایران کے خلاف سعودی الزامات ـ خاص طور پر یمن میں ایران کی مداخلت کے حوالے سے سعودی الزام ـ کے بارے میں کہا: ایک نکتہ ہم سب کے لئے قابل توجہ ہے اور وہ یہ کہ جو ممالک عالم اسلام کے دشمن ہیں ان کی مسلسل کوشش ہے کہ اسلامی ممالک کو تفرقہ اور اختلاف سے دوچار کردیں. اگر آپ کو یاد ہو جب صدام نے ایران پر حملہ کیا تو بیرونی طاقتوں نے بہت سے عرب ممالک کو ایران سے خوفزدہ کیا اور یہ سارے ممالک صدام کی حمایت پر آمادہ ہوئے لیکن یہ خوفزدگی بے بنیاد تھی اور آپ نے خود مشاہدہ کیا کہ اس جھوٹ نے علاقے میں کتنی بڑی آگ لگائی۔آپ نے حالیہ برسوں میں دیکھا کہ بیرونی طاقتوں نے شیعہ اور سنی کے درمیان فتنہ انگیزی کی اور عراق اور دیگر ممالک میں مسائل کھڑے کئے۔حال ہی میں آپ نے دیکھا کہ ایک سعودی خطیب نے آیت اللہ سیستانی کی توہین کی؛ اور یہ سب دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیاں ہیں. دوسرا اہم مسئلہ فلسطین کا مسئلہ ہے؛ ہم یمنیوں کے دوست ہیں اور ہم نے مسلسل انہیں تلقین کی ہے کہ مختلف فرقوں کے ساتھ اور مختلف فرقے آپس میں سازگار اور ہماہنگ ہوں. یمن میں ایران کی مداخلت کے الزامات بے بنیاد ہیں؛ ہمارے تعلقات بہت سے علاقائی ممالک کے ساتھ دوستانہ ہیں؛ حتی ہمارے تعلقات سعودی عرب کے ساتھ بھی دوستانہ ہیں. اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا: ہم نی سعودی بھائیوں سے دوستانہ انداز میں کہا کہ یمن کی جاری صورت حال آپ کے مفاد میں نہیں ہے؛ ہمارا موقف بھی یہی ہے اور ہم دوٹوک انداز میں اپنا موقف بیان بھی کیا ہے تا ہم عربی اور اسلامی ممالک کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات برقرار ہیں.
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 176935
اسلامی مجلس شوری کے سربراہ ـ جو کویت کے دورے پر ہیں ـ نے سعودی عرب کے علاقائی رویئے کے بارے میں کہا: ہم نے سعودی برادران سے دوستانہ انداز میں کہا کہ جو کچھ یمن میں ہورہا ہے وہ آپ کے مفاد میں نہیں ہے، ہم نی دوٹوک انداز میں ان سے کہا تا ہم اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ ہماری دوستی برقرار ہے.