اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی نائب وزیر دفاع خالد بن سلطان آل سعود نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ظاہر ہوکر کوئی بھی ثبوت پیش کئے بغیر کہا: کہ الحوثی شیعہ تنظیم القاعدہ سے وابستہ ہے اور یہ بات میدان جنگ میں ملنے والی لاشوں، حوثیوں اور القاعدہ کے مابین رابطوں اور ہماہنگیوں اور ان کے مشترکہ مفادات سے ظاہر ہوتی ہے کہ یہ دونوں تنظیمیں مل کر سعودی عرب کے خلاف تخریبکارانہ اقدامات کررہی ہیں!۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ القاعدہ کی دہشت گرد تنظیم سعودی شہزادوں کی گود میں پلی ہے اور سعودی عرب کے حکمرانوں نے امریکہ کے تعاون سے مختلف ممالک کی جیلوں میں بند سینکڑوں القاعدہ دہشت گردوں کو یمن منتقل کیا ہے تا کہ وہ پورے یمن میں سرگرم شیعہ شخصیات کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے دہشت گردی کا نشانہ بنائیں اور صدام کے باقیات اور آمر علی عبداللہ صالح سے مل کر حوثی مجاہدین کے لئے نبرد آزما ہوں! انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران القاعدہ کے راہنما علی عبداللہ صالح کے ساتھ ملاقات میں امریکی و اسرائیلی مقاصد کے حصول کے لئے مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہوچکے ہیں!۔یادرہے کہ الحوثی مجاہدین نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ ہر قسم کے تعلق کی تردید کی ہے اور ان کا موقف ہے کہ اگست 2009 میں یمن میں اغوا کئے جانے والے مغربی باشندوں کے اغوا اور قتل میں القاعدہ اور حکومت یمن ملوث ہیں۔ جبکہ حکومت یمن نے پیشگی منصوبے کے تحت اغوا اور قتل کی اس واردات کا الزام حوثیوں پر لگایا اور ان کے خلاف چھٹی جنگ کا آغاز کیا۔ قابل ذکر ہے کہ یمنی حکومت نے اگست میں شیعہ باشندوں کے خلاف چھٹی جنگ کا آغاز کیا تھا اور سعودی حکمران بھی نومبر کے مہینے میں علی عبداللہ صالح کے اقدامات سے مأیوس ہوکر ـ [پس پردہ] یمن کی سرزمیں کے شمالی حصے پر قبضہ کرنے کی نیت سے ـ شیعہ مجاہدین کے سعودی علاقوں پر قبضے اور القاعدہ کے ساتھ تعلق کا بہانہ بنا کر نومبر میں شمالی یمن پر حملہ آور ہوا اور گو کہ وہ اپنے کسی بھی اعلان شدہ ہدف کے حصول میں ناکام رہا ہے مگر یمن کے شیعہ علاقوں پر ہزاروں گولے اور بم گرا کر سینکڑوں بے گناہ افراد کے قتل عام اور لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے کا باعث بنا ہوا ہے۔
17 اپریل 2010 - 19:30
News ID: 176933
سعودی عرب نے شیعیان یمن کے خلاف اپنے الزامات کے سلسلے میں اس حقیقت کا اقرار کیا ہے کہ اس کے پاس شیعیان یمن کے خلاف کوئی بھی قابل اعتماد ثبوت موجود نہیں ہے مگر ہفتے کے روز سعودی حکمرانوں نے ایک بار پھر دعوی کیا کہ وہ القاعدہ کے دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہیں!!