2 جنوری 2026 - 20:38
یمن: سعودی عرب اور امارات کے درمیان گھمسان کی لڑائی؛ حضرموت پر بمباری

یمنی ذرائع نے امارات اور سعودی عرب سے وابستہ افواج کے درمیان یمن کے صوبہ حضرموت، میں شدید جنگ چھڑ گئی ہے اور امارات کی حمایت یافتہ فوجوں پر سعودی جنگی طیاروں کی بمباری کی اطلاع دی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اناطولی کی رپورٹ کے مطابق، مشرقی یمن کے صوبے حضرموت میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ "جنوبی عبوری کونسل" سے وابستہ فوجوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، حضرموت صوبے کا کنٹرول سنبھالنے والے جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ دستوں،  اور اس صوبے کے فوجی اڈوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کوشاں سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل کے دستوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔

اسی تناظر میں، جنوبی عبوری کونسل کے وہ مسلح دستے جو سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت سے وابستہ "فورسز آف نیشنل شیلڈ" سے لڑ رہی تھیں، حضرموت کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کا نشانہ بنائی گئیں۔

یمنی ذرائع نے تصدیق کی کہ حضرموت وادی کے علاقے "الحشّہ" میں قومی شیلڈ فورسز اور جنوبی عبوری کونسل سے وابستہ عناصر کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

اس سے قبل، سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے حضرموت صوبے میں "فوجی ہیڈکوارٹرز کی بازیابی" کے نام سے ایک آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس صوبے پر حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ "جنوبی عبوری کونسل" نے قبضہ کر لیا تھا۔

امارات کی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل نے 3 دسمبر کو فوجی کاروائیوں کے ذریعے مشرقی صوبوں حضرموت اور المہرہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جو سعودی عرب اور عمان کی سرحدوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے بھی 30 دسمبر کو اعلان کیا کہ اس نے حضرموت کے شہر المکلا کی بندرگاہ میں جنوبی عبوری کونسل سے تعلق رکھنے والے کچھ ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو فضائی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔

اس اتحاد نے زور دے کر کہا کہ جنگی سازوسامان سے لدے دو بحری جہاز اتحادی کمان سے ہم آہنگی کے بغیر امارات کی بندرگاہ فجیرہ سے المکلا کی بندرگاہ منتقل کئے گئے تھے جن سے اتارا گیا سازوسامان بمباری کا نشانہ بنا۔

اس کے ساتھ ہی، سعودی عرب سے وابستہ 'یمنی حکومت!' نے 30 دسمبر کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ 'مشترکہ دفاعی معاہدے' کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے یمنی حکومت کی درخواست پر، امارات سے کہا ہے کہ وہ یمنی سرزمین سے اپنی فوجیں واپس بلا لے اور یمن میں ملوث فریقوں کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی امداد دینے سے باز رہے۔

ادھر ریاض نے جنوبی سعودی سرحدوں کے قریب حضرموت اور المہرہ میں "جنوبی عبوری کونسل" کی فوجوں کی تعیناتی کو اپنی "قومی سلامتی کے لئے خطرہ" قرار دیا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی بڑھنے کے بعد، امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن میں اپنے نام نہاد "انسداد دہشت گردی" کے دستوں کو رضاکارانہ طور پر تحلیل کر دیا ہے!

واضح رہے کہ حال ہی میں ایک رپورٹ ـ جو ابنا پر بھی شائع ہوئی ـ میں کہا گیا تھا کہ چونکہ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو قبل از وقت قرار دیا ہے، امارات اور صہیونی ریاست نے یمن میں سعودی عرب کے خلاف مشترکہ اقدامات کا منصوبہ بنایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha