17 اپریل 2010 - 19:30

آیت اللہ العظمی بہجت کے دفتر کے سربراہ "آیت اللہ محمد حسن محفوظی" نے کہا: انقلاب سے پہلے کے حالات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے؛ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو سب سے زیادہ لائق، سب سے زیادہ شائستہ اور انقلاب کی نسبت سب سے زیادہ وفادار ہیں وہ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ہیں۔

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی بہجت کے دفتر کے سربراہ، آیت اللہ محمدحسن محفوظي نے مدرسۂ علمیہ امام صادق علیہ السلام کے اساتذہ اور طلباء سے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی سے قبل کے حالات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: انقلاب اسلامی سے پہلے ہمارے ملک کی صورت حال ہرگز اچھی نہ تھی اور خداوند متعال نے دشمنوں کی بیخ کنی کی اور انقلاب کی کامیابی نے طاغوت کو سرنگون کرکے"اسلام، قرآن، ولي‌فقيہ اورقانون" کو حاکم بنایا.

مجلس خبرگان کے رکن نے ولایت فقیہ کے مخالفین سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: کیا تم انقلاب اسلامی سے قبل کی صورت حال کو بھول گئے ہو کہ آج ولایت کی جڑوں پر حملہ آور ہورہے ہو؟

حوزہ علمیۂ قم کی انجمن اساتذہ (جامعۂ مدرسین) کے رکن نے امام زمانہ (عج) کے انتظار کی کیفیت کے بارے میں فرمایا: امام زمانہ (عج) کی زیارت اور ملاقات کے لئے چلہ نشینی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ امام علیہ السلام نے فرمایا ہے: اپنی اصلاح کرو میں خود تم سے ملنے آؤں گا.

آیت اللہ محفوظی نے بعض افراد کی طرف سے «جمہوری ایرانی» کے نعرے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ہمیں ہرگز نہیں بھولنا چاہئے کہ انقلاب اسلامی کے رہبر اور اسلامی جمہوریہ کے بانی حضرت امام خمینی (رح)

کا نعرہ بھی تھا اور عقیدہ بھی کہ "اسلامی جمہوریہ؛ نہ ایک لفظ زیادہ اور نہ ہی ایک لفظ کم"۔

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ ہمیشہ کے لئے میدان عمل میں رہیں اور انقلاب اسلامی اور ولایت فقیہ کی حمایت کریں کیونکہ امام خمینی (رح) بھی عوام کے کردار پر بھروسہ رکھتے تھے اور ان ہی کا فرمان ہے کہ عوام کے اعتماد کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے۔