بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پاکستانی اخبار ڈان نیوز کے مطابق پولیس نے بتایا ہے کہ پہلا دھماکہ قمبرانی روڈ کے نزدیک اس وقت ہوا جب نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس چیک پوسٹ پر دستی بم پھینکا۔
دوسرا دھماکہ، جو ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، اسی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شرپسند عناصر نے پہلے دھماکے کی جگہ کی طرف جانے والی سی ٹی ڈی کی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق گاڑی آئی ای ڈی دھماکے سے محفوظ رہی اور تمام سی ٹی ڈی اہلکار خیریت سے ہیں، آئی ای ڈی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھی اور اسے ریموٹ کے ذریعے دھماکے سے اڑایا گیا۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور دہشت گردوں نے اپنے حملوں کی شدت اور تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 3 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جن میں ضلع کچھی کے مچھ ٹاؤن میں ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا جب کہ ایک اور دو دھماکے ضلع مستونگ کے میجر چوک میں ہوئے، جس کے بعد مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
اسی ہفتے جعفر ایکسپریس بولان پاس کے علاقے سے گزرتے ہوئے مسلح حملے سے محفوظ رہی، یہ واقعہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ٹرین پر ہونے والا چھٹا حملہ تھا۔
30 ستمبر کو کوئٹہ میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈ کوارٹر کے قریب ایک گلی میں ہونے والے بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قمبرانی روڈ پر یکے بعد دیگرے دو دھماکے رپورٹ ہوئے جس میں پولیس چوکی اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آپ کا تبصرہ