اس جنگ میں مداخلت سے اردن کا مفاد کیا ہے؟
موصولہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن نے شیعیان یمن کے خلاف سعودیوں کی مدد کے لئے اپنے سپیشل گارڈز کے دستے روانہ کردیئے ہیں جو سعودی افواج کے دوش بدوش لڑرہے ہیں؛ یمنی مداخلت کا پس منظر کیا ہے اور حال اور مستقبل میں اردن کی مداخلت کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ یمن میں اردن کی فوجی مداخلت کے آشکار اور نہاں پہلو کیا ہوسکتے ہیں؟
یمن میں اردنی فوجی موجودگی کی تفصیلات:
اردنی افواج کے اسپیشل گارڈز کے خصوصی دستے ابتدائی مرحلے میں تبوک میں واقع سعودی فوجی اڈے میں داخل ہوئے۔
یہ دستے ابتدائی کوائف پورے کرنے کے بعد ہوائی راستے سے جبل الدخان کے علاقے میں پہنچادیئے گئے جہاں سے سعودی عرب نے اہل تشیع کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کیا تھا۔
- سعودی فوجیوں کے ہمراہ اردنی فوجیوں کی مداخلت پہلے مرحلے میں یمنی فوجی افسروں کے درمیان شدید اختلافات کا باعث بنی۔ اور ان کمانڈروں نے وسیع بیرونی مداخلت اور بیرونی قوتوں کے ذریعے یمنی شہریوں کے قتل عام کے حوالے سے اپنی تشویش کا باقاعدہ اظہار کیا ہے۔ سعودیوں کے ساتھ اردنیوں کی مداخلت دوسری طرف سے یمنی عوام کی طرف سے بھی وسیع احتجاج کا سبب بنی ہوئی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق "جلی زمین" نامی آپریشن کے سلسلے میں صعدہ روانہ کئے جانے والے یمنی فوجی دستے بھی کارآمد نہیں رہے اور ان کا کردار صعدہ کے علاقے میں "غیر جانبدار فوجی قوت" کی سی ہوگئی ہے اور اس امر کی اصلی وجہ سعودی اور اردنی مداخلت بتائی جارہی ہے۔
یمن میں سیکورٹی اجلاس؛ نقطۂ آغاز
اردن نے نہایت تیزی سے غیرمعمولی انداز سے اپنے دستے سعودی عرب روانہ کئے اور یہ ایک سیاسی عمل ہے جس میں اردن نے صنعاء اور ریاض سے اپنی یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے یمن کے شمال اور سعودی عرب کے جنوب میں استحکام قائم کرنے کی غرض سے ان دوملکوں کی مدد کی ہے لیکن یہ ایک ظاہری توجیہ ہے۔
ان ظاہری توجیہات کے بر عکس، اردن کا فوجی اقدام امّان میں حالیہ سلامتی اجلاس کے دائرے میں سفارتی ـ سلامتی اقدام تھا جس کو بظاہر علاقائی اجلاس کا نام دیا گیا مگر اس میں مصر، سعودی عرب اور اردن کے ساتھ امریکی اور اسرائیلی جاسوسی اداروں کے سربراہوں نے حصہ لیا۔ اس اجلاس میں تین عرب ممالک کو "اعتدال پسند عرب ممالک" کے عنوان سے شریک کیا گیا تھا۔
اردن میں ہونے والے "علاقائی" سلامتی کے اجلاس میں شریک افراد:
* اردنی میجر جنرل محمد الراقد
* صہیونی جاسوسی اداری موساد کا سربراہ مائیر داگان۔
* امان میں مقیم اسرائیلی ملٹری اینٹیلجنس کا سربراہ عاموس یادلین۔
* مصری جاسوسی ایجنسی کا سربراہ میجر جنرل عمر سلیمان۔
* امریکی مرکزی اینٹیلجنس ایجنسی (CIA) کے نمائندگان
* امریکی وزارت دفاع پینٹاگان کے مندوبین
* سعودی مندوب کا نام معلوم نہیں ہوسکا
نہاد علاقائی اجلاس میں امریکییوں اور اسرائیلیوں کی تعداد دیگر ممالک کے نمائندوں سے کہیں زیادہ تھی۔
اجلاس کے بعد مصری عمر سلیمان عجلت میں ریاض کے دورے پر نکلا اور اپنے سعودی ہم منصب امیر مقرن بن سلطان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس کو امان کے اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ فریقین نے بیشتر مفاہمتوں کی غرض سے مختلف تجاویز پر بھی غور و خوض کیا۔ البتہ یہ بات عجیب ہے کہ سعودی مندوبین بھی اجلاس میں شریک تھے مگر مصری مندوب کو رپورٹ دینے کے لئے ریاض کا دورہ کرنا پڑا جو باعث حیرت ہے۔
پینٹاگان اور سی آئی اے کے نمائندے اجلاس کے بعد داگان کے ہمراہ مقبوضہ فلسطین چلے گئے جہاں امریکیوں اور اسرائیلیوں نے بھی آپس میں صلاح مشورے کئے۔
امان کے اجلاس اور ریاض میں عمرسلیمان اور امیرمقرن کی ملاقات کے بعد اردنی فوجی دستوں کو سعودی عرب روانہ کیا گیا۔ اور یہ دستے تبوک میں واقع سعودی فوجی چھاؤنی میں اترے۔
امان کے اجلاس کے بعد امریکی نمائندوں نے نیتانیاہو ـ اوبا ملاقات کے علاوہ صہیونی وزیر جنگ ایہود بارک ـ رابرٹ گیٹس ملاقات اور صہیونی چیف آف اسٹاف گابی اشکنازی ـ مایکل مولن ملاقات کی منصوبہ بندی کی۔
امان اجلاس کا پورا مقصد یا اس کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یمن کے شمالی علاقوں میں شریک ملکوں کی مداخلت سے عبارت تھا۔
* امان کے سلامتی اجلاس کے خفیہ پہلو: خفیہ جنگ اور صعدہ میں قتل عام
اجلاس میں شرکت کرنے والے فریقوں کی کوشش ہے کہ وسیع نفسیاتی جنگ کے ذریعے یمن کی جنگ کو یمنی ـ سعودی استحکام کی تباہی کی سازش قرار دیا جائے اور اس کی ذمہ داری ایران پر ڈال دی جائے۔
شمال مغرب میں حوثیوں کی تحریک کو جنوبی علیحدگی پسند تحریکوں سمیت القاعدہ سے جوڑ دیا جائے۔
دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کے دائرے میں امریکہ کے نزدیک "اعتدال پسند اسلامی ممالک" (یعنی مصر، سعودی عرب اور اردن) (1) اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان تعاون پر زوردیا جارہا ہے اور اسرائیل نے بھی موقع سے فائدہ اتھا کر "سعودی عرب اور یمن" کو ایران کی نفوذ سے بچانی کی نعری لگانی شروع کیئی ہیں۔ اور کیا عجب ہے کہ عرب دنیا کی ایک ملک اور م