18 مارچ 2010 - 20:30

"جبل الدخان، "جبل الرمیح" اور "جبل المدود" وہ تین نقاط ہیں جہاں سعودی افواج اور شیعیان یمن کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔ یہ تین علاقے یمن اور سعودی عرب کے درمیان متنازعہ ہیں اور ...

* سعودی افواج کو یمن میں داخلے میں ناکامی کا سامنا ہے

"جبل الدخان، "جبل الرمیح" اور "جبل المدود" وہ تین نقاط ہیں جہاں سعودی افواج اور شیعیان یمن کے درمیان لڑائی ہورہی ہے۔ یہ تین علاقے یمن اور سعودی عرب کے درمیان متنازعہ ہیں اور یمن اور سعودی عرب دونوں ان علاقوں کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتے ہیں۔

سعودی عرب نے میدان جنگ میں اترنے کے لئے متعدد بہانوں کا سہارا لیا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ جنگ کو اپنے کنٹرول میں لاکر اس کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کی غرض سے شیعیان یمن پر حملہ آور ہوا تا ہم اب تک وہ کسی ایک مقصد کے حصول میں بھی کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ اس بات کا ادراک کچھ زیادہ دشوار نہیں ہے کہ اگر سعودی عرب کو معلوم ہوتا کہ وہ تھوڑی سی مدت میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گا اور جنگ طول پکڑے گی تو وہ ہرگز میدان جنگ میں نہ اترتا.

سعودی عرب جنگ سے قبل سمجھ رہا تھا کہ یمن کی جنگ میں شریک ہوکر شیعہ تحریک کو کچل دے گا اور سعودی عرب میں اہل تشیع کو مستقبل میں اپنے حقوق کے حصول کے لئے سر اٹھانے سے باز رکھے گا مگر اب بات بالکل برعکس ہوچکی ہے اور اور اب اس کو یمن کی جنگ میں لمبے عرصے تک ملوث ہونے کی صورت میں ہی اندرونی دباؤ اور اہل تشیع کی بیداری کا سامنا کرنا پڑے گا.

دوسری طرف سے سعودی عرب عالم اسلام کا مرکز ہونے کا دعویدار ہونے کے باوجود ذیقعدہ کے حرام مہینے میں لڑائی میں شامل ہوگیا ہے اور ذی الحجہ اور محرم کے حرام مہینوں میں بھی جنگ لڑ رہا ہے اور یہ مسئلہ بھی عالم اسلام میں سعودی حکمرانوں کے لئے خوشائند نہیں ہے۔ مشرق وسطی، خلیج فارس اور بحر احمر کا امن و استحکام سعودی اور مغربی حکمرانوں کے لئے بہت اہم ہے اور یمن میں طویل المدت جنگ ـ جو خانہ جنگی کی حدود طے کرکے اس وقت علاقائی جنگ میں تبدیل ہوئی ہے ـ ان علاقوں کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

ایک بہت بڑی مشکل جو اس وقت سعودیوں کا گریباں پکڑے ہوئے ہے یہ ہے کہ اس جنگ میں انہیں سنگین ناکامیاں برداشت کرنی پڑی ہیں اور اس وقت اگر سعودی عرب اس حساس موقع پر اس جنگ سے نکل جائے تو بھی اس کو نہایت خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا. سعودی عرب نے اپنی ناکام کاروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں جانی نقصان اٹھایا ہے اور اس کے متعدد اہلکار بھی شیعہ مجاہدین کے ہاتھوں قید ہوچکے ہیں اور بڑی مقدار میں سعودی ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر پر بھی مجاہدین نے قبضہ کرلیا ہے؛ اردن، مصر اور صہیونی ریاست سے مدد لے کر بھی اسے کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے اور اس وقت سعودیوں کی کوشش ہے کہ اس جنگ میں کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل کرکے "جنگ میں اپنی کامیابی کا اعلان کرے اور میدان جنگ سے خارج ہوجائے" اور اگر اپنے اس مقصد کے حصول میں بھی ناکامی سے دوچار ہوجائے تو اس ملک پر علاقائی اور اندرون خانہ دباؤ بڑھ جائے گا اور سعودی حکومت کا امن و استحکام خطرے میں پڑ جائے گا. یوں سمجھنا مناسب ہوگا کہ سعودی عرب کے حکمرانوں کے پاس اس وقت نہ آگے بڑھنے کا راستہ ہے اور نہ پیچھے ہٹنے کا راستہ۔

اردن، امارات، مصر اور بحرین دیگر علاقائی کھلاڑی ہیں جو اس جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

دوسری طرف سے گذشتہ جنگوں کے تجربے سے ثابت ہے کہ یمنی حکومت جنگ میں مکمل ناکامی اور یمنی افواج کی طاقت اور ساکھ تباہ ہونے کے بعد یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرے گی.

امریکہ اور صہیونی ریاست ابتداء ہی سے اس جنگ میں بالواسطہ طور پر ملوث ہیں اور اب امریکہ یمن کی جنگ میں براہ راست حصہ لینے لگا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب کے نام نہاد خادمین حرمین شریفین کو قبلہ اول کی غاصب ریاست کا مکمل تعاون حاصل ہے اور اسرائیلی ایجنسیاں ایتھوپیا سے اڑنے والے جہازوں اور مصنوعی سیارچوں سے حاصل ہونے والی معلومات اور تصاویر سعودیوں اور یمنی افواج کو فراہم کررہے ہیں اور امریکہ براہ راست شرکت کے علاوہ یمنی آمریت کو ہتھیار بھی فراہم کررہا ہے۔ مغربی قوتیں بھی اپنے مفادات کے حصول کے لئے آگ و خون کے اس میدان میں کود پڑے تھے اور وہ بھی یمنی اور سعودی حکمرانوں کی مانند اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ جنگ جلد ہی ختم ہوجائے گی مگر ایسا نہ ہوا اور جنگ جاری رہنے کی وجہ سے مغربی مفادات بھی خطرے میں پڑ رہے ہیں۔

گو کہ بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال بھی یہی تھا اور سعودی حکمرانوں کا منصوبہ بھی کہ، علی عبداللہ صالح کا تختہ الٹ جانے کی صورت میں سعودی نواز سلفی گروہ یمن کا اقتدار سنبھالیں گے مگر اس تصور کا تعلق یمن میں جنگ سے قبل کے زمانے سے ہے؛ اس وقت شیعیان اہل بیت (ع) نے زبردست طاقت حاصل کی ہے اور انھوں نے اپنی موجودگی کے ناقابل انکار ثبوت پیش کردیئے ہیں چنانچہ آمریت کے زوال کے بعد سلفیوں کے لئے اقتدار سنبھالنا بہت ہی دشوار ہوگا. جنوبی یمن میں سنی عوام نے قیام کررکھا ہے اور شمال کا حال تو بیان ہوچکا چنانچہ یمن میں تشکیل پانے والے آئندہ حکومت کو جنوب اور شمال کی تحریکوں کے حوالے سے زبردست چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا. بالفرض اگر یمن میں سلفی قوتیں بھی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوجائیں تو شمال اور جنوب میں شیعیان اہل بیت (ع) اور شافعی سنیوں کی زبردست اور طاقتور تحریکوں کے ہوتے ہوئے یمن کی حکومت محض سلفی نہیں ہوگی اور اس میں دیگر مسلمانوں کو بھی شراکت اقتدار کے قاعدے کے تحت شامل کیا جائے گا.

سعودی عرب کی کوشش ہے کہ سلفی اور سعودی نواز عناصر یعنی الاحمر خاندان کے افراد یمن میں برسراقتدار آجائیں مگر مغربی طاقتوں کی کوشش ہے کہ علی عبداللہ صالح برسر اقتدار رہےی اور اگر تبدیلی ناگزیر ہوئی تو اس کا بیٹا حکومت سنبھالے.

یمن کی جغرافیائی اہمیت اور مغربی مفادات

یمن جغرافیائی اعتبار سے ایک تزویری Strategic علاقہ ہے اور باب المندب نامی آبنائے پر مسلط ہے۔ اس آبنائے کی حدود میں متعدد جزائر ہیں اور جو بھی گروہ ان جزائر میں سے کسی ایک پر بھی قبضہ کرلے وہ اس آبنائے کے امن و استحکام کو متأثر کرسکتا ہے۔ اس علاقے کا امن بہت اہم ہے چنانچہ مغرب کے نزدیک یہ طے ہے کہ یمن کا حکمران مغربی پالیسیوں کے ساتھ ہماہنگ ہونا چاہئے. لیکن مغربی قوتوں کا خیال یہ بھی ہے کہ اگر یمن میں سلفی بھی برسر اقتدار آئیں اور مغربی مفادات کی حفاظت کی ضمانت دیں تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا.

یمن میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر ہیں؛ یمنیوں کا جذبۂ جہاد صدر اول سے لے کر اب تک قائم و دائم ہے اور اگر بر سر اقتدار آنے والی جماعت اس جذبے پر بطور احسن قابو نہ پاسکے تو یمن کی حکومت سمیت خطے کی دیگر حکومتوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا.

مغرب کے لئے یمنیوں خاص طور پر شیعیان یمن کا جذبۂ جہاد خاص طور پر مغرب کی فکرمندی کا سبب بنا ہوا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اس جذبے پر پوری طرح قابو پائیں کیونکہ مغربیوں کے خیال میں اگر شیعیان یمن کا جذبۂ جہاد اسی طرح پھلتا پھولتا رہا تو یمن سمیت پورا خطہ مغربی اثر و نفوذ کے دائرے سے نکل جائے گا.

* یمنی آمریت کی جانب سے ایرانی تاجروں پر دباؤ اور یمن میں ایران کا کردار

سوال: آپ یمن کے موجودہ حالات کے سلسلے میں ایران کے موقف کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

پیربداغی: یمن کا مسئلہ فلسطین اور لبنان سے بالکل مختلف ہے چنانچہ یمن کے اہل تشیع کی حمایت کے سلسلے میں ایران کا سرکاری موقف بھی مختلف ہے اور اس سلسلے میں ایران سرکاری طور پر زیادہ ٹھوس موقف نہیں اپنا سکتا تا ہم ایرانیوں اور عالم تشیع کی اکثریت کا کم از