15 جون 2009 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کو استعمال کر نے کیلئے ہمت چا ہیے جو امریکا اور اسرائیل کے پاس نہیں ہے۔ایرانی صدر نے برازیل کے دورے میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہتھیار اور دھمکیاں ماضی کی با تیں ہیں ۔فوجی حملوں اورفوجی کاروائیوں کی دھمکی کا دور اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور اب مذاکرات کا وقت ہے۔

صدر ڈاکٹراحمدی نژاد نے برازیلیامیں برزیل کے  ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میں - کہ کیا ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے ممکنہ حملے سے انھیں کوئي تشویش نہيں ہے ؟ - کہا کہ حملہ اور فوجی  دھمکی سیاسی طور پر پسماندہ افراد کی سوچ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہتھیار استعمال کرنے کا حوصلہ اسرائیل اور امریکا کے پاس نہیں ہے ۔

صدرڈاکٹراحمدی نژاد نے ایران اوربرازيل کے درمیان ایٹمی شعبے میں حاصل ہونے والے معلومات کے تبادلے کے بارے میں کہا کہ یہ ایران اور برازیل کے عوام  کا حق ہے کہ پرامن ایٹمی انرجی سے استفادہ کریں اورقانون کے مطابق قوموں کے درمیان ایٹمی تعاون انجام پائےگا۔

صدراحمدی نژاد نے کہا کہ ایران دوست ملکوں کے ساتھ  تعلقات میں فروغ کے سلسلے میں کسی بندش کا قائل نہیں ہے اورجہاں بھی ملک کے مفادات کا تقاضہ ہوگا  باہمی تعاون انجام پائےگا۔

صدراحمدی نژاد نے تہران و برازیلیا کے تعلقات کو ناکا م بنانے کے لئے بعض ملکوں کی ناکام کوشش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک چھوٹا سا گروہ ہے جو قوموں کے درمیان تعلقات کا مخالف ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ مستقبل قوموں کا ہے اور ایران وبرازیل عظیم اقوام  کا حصہ ہیں اور کوئی بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ 

کل سہ پہر کو دارالحکومت برازیلیا میں ایرانی اور برازیلی تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے صدراحمدی نژاد نے دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ ساری دنیا کے لئے سومند قرار دیا اور کہا کہ ایران اور برازیل کے تاجروں، صنعتکاروں اور صنعت و تجارت کے ذمہ دار اہلکاروں کا باہمی تعاون تمام شعبوں میں نمونۂ عمل ثابت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ایران اور برازیل کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور برازیلیا کے باہمی تعاون میں اضافہ ہوگا۔

اس موقع پر برازیل کے صدر نے بھی زور دے کر کہا کہ برازیل ایران کے ساتھ تعلقات کے ‌فروغ کو بہت اہمیت دیتا ہے  ۔ دھونس ودھمکی کا زمانہ گذرچکا ہے، صدراحمدی نژاد     

نیوز کانفرنس سے پہلے ایرانی صدر نے برازیل کے صدر luiz inacio lula سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد برازیلی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کو ایٹمی توانائی کے پُرامن استعمال کا حق حاصل ہے ۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن کے لیے مذاکرات کو ضروری قرار دیا ۔ 

برازیل کے صدر لوئس اناکیوڈیسلوا نے کہا کہ عالمی برادری ایران کو تنہا کرنے کی بجائے اسے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کا حصہ بنائے جبکہ ایران کو ایٹمی پروگرام کے منصفانہ اور متوازن حل کے لیے مغربی اقوام سے مزاکرات کرنے چاہیں۔ برازیل کے دارلحکومت برازیلہ میں ایران صدر سے ملاقات کے بعد برازیل کے صدر نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ عالمی سطح پر ایران کو تنہا کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران کے ساتھ بیٹھا جائے اور اس کے ساتھ مزاکرات کے زریعے مشرق وسطیٰ کے حالات کو معمول پر لایا جائے۔ انہوں نے ایران کے پرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے صدر نژاد کو مشورہ دیا کہ وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ ایٹمی تنازعہ پر مذاکرت جاری رکھیں جبکہ ایرانی صدر نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ ایران یونیم کو افزودہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔انہوں نے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے اور ہم اس سے ایٹمی ہتھیار بنانے کا پروگرام نہیں رکھتے۔