خبر ایک سینیئر صحافی ابولحسن جعفری کی ان کے مکان کے باہر فائرنگ سے ہلاکت کی تھی۔ دوست پشاور کے حالات پر کچھ لکھنے کا تقاضہ کر رہا تھا۔اب سمجھ نہیں آ رہی کہ مرثیہ دوست کی ہلاکت پر لکھوں یا اس شہر ناپراساں کی حالت زار پر۔ ایک ایک کر کے ساتھیوں کی ہلاکتوں یا شہر بدری اور پشاور کی بدامنی میں روزانہ کے اضافے پر اب رونا بھی نہیں آتا۔ شاید آنسو ختم ہوگئے ہیں۔ بس دل بھاری ہو جاتا ہے۔ابوالحسن جعفری سے پہلی ملاقات پشاور سے نکلنے والے اس وقت کے واحد قومی معیار کے انگریزی اخبار ’فرنٹیر پوسٹ‘ میں انیس سو اٹھاسی میں ہوئی تھی۔رپورٹنگ میں انہیں دیکھا تھا اور پھر تقریباً روز دیکھتے تھے۔ زندگی اور مزاح سے بھرپور جعفری کے لیے مرحوم کا لفظ استعمال کرتے ہوئے دکھ ہو رہا ہے۔ صحافت سے جڑے لوگوں کی زندگی مسلسل ٹینشن کی وجہ سے ویسے ہی کم ہوتی ہیں لیکن کیا اس طرح سے بھی ان کی زندگی قبل از وقت ختم کی جاسکتی ہے؟اس شخص کا دشمن کون ہوگا یہ سوال سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہنسی مذاق سے بھرپور زندگی کے تلخ پہلو کو بھی انتہائی زود ہضم انداز میں پیش کرنے کا وہ ماہر تھا۔ انگریزی صحافت سے اس نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا اور شاید اسی لیے وہ آخری وقت تک انگریزی میں ہی لکھتے رہے۔ ان کے کالم آج بھی لائبریوں میں مل سکیں گے اور آج کی صورتحال میں بھی موثر ہوں گے۔پشاور کے رہائشی ہونے کے ناطے اس شہر کی ابتر حالت پر ان کا دل بھی اتنا دکھتا تھا جتنا کہ میرے جیسے ’پشوری‘ کا دور بیٹھے تڑپتا ہے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ پشاور کو دشمنوں کی نظر کھا گئی ہے لیکن انہیں شاید نہیں معلوم تھا کہ یہ نظر ایک دن انہیں بھی نگل جائے گی۔اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا قتل انتہا پسندوں کا ایک نیا حربہ ہے جو وہ پاکستان کو باقی دنیا سے الگ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم یہ نیا حربہ یقینا نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برس پشاور سے ہی ایرانی کونسل خانے کے ایک اہلکار کو اغوا کیا گیا جن کا آج تک اتا پتہ معلوم نہیں۔ اس کے علاوہ پشاور میں افغان کونسل جنرل فراحی صاحب کا بھی یہی حال ہے۔ایرانی کونسل خانے کے اہلکار کے اغوا کے بعد یقیناً ان کے اہلکاروں نے اپنی سکیورٹی بڑھا دی ہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ جعفری اس سے مستثنی ہوں گے۔ وہ کبھی اپنے آپ کو غیرمحفوظ نہیں سمجھتے ہوں گے۔ انہوں نے عام شہریوں کی طرح آخری وقت تک زندگی بسر کی۔ پشاور کے لوگ ان حالات میں کیا جینا چھوڑ دیں؟ حالات میں بہتری کے آثار تو نہیں لہذا پشاور کے لوگوں کو اس کا خوف تو ہے ہی کہ جو ہو رہا ہے لیکن مستقبل کی ٹینشن بھی کچھ کم نہیں۔جعفری صاحب تو نہیں آسکتے لیکن کاش پشاور کا امن تو واپس لوٹ آئے۔ اس کی قیمت کب تک یہ شہر ادا کرتا رہے گا۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 171911
صبح پشاور سے ایک بری خبر آئی اور پھر ایک دوست کی ٹیلیفون کال۔ خبر بھی ایک مرثیے کا تقاضہ کر رہی تھی اور دوست بھی۔