15 جون 2009 - 19:30

شیعہ مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں سعودی عرب کے سات فوجی ہلاک، چار لاپتہ اور 120 زخمی ہوئے ہيں اور شیعہ مجاہدین کی فائرنگ سے یمنی فضائیہ کا ایک جنگی بمبار طیارہ تباہ ہوگیا ہے.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی نائب وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی مسلح افواج نے یمن کے شمال میں الحوثی مجاہدین کے زیر تسلط بعض پہاڑوں پر قبضہ کرلیا ہے!

سعودی نائب وزیر دفاع خالد بن سلطان نے سعودی ذرائع ابلاغ سے کہا ہے کہ سعودی فوجیں یمن کی سرحد پر الحوثی مجاہدین کے خلاف لڑ رہے ہیں گو کہ وہ ابھی تک یمن کی سرزمین میں داخل نہیں ہوئی ہے.

بن سلطان نے یمنی سرحد کے قریب "جبل الدخان" فوجی اڈے میں ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ سعودی افواج گذشتہ پانچ دنوں سے شیعہ علاقوں پر بمباری کررہی ہیں.

یادرہے کہ سعودی حکمران گذشتہ 4 مہینوں سے یمنی حکمرانوں کے ساتھ مل کر اہل تشیع کو نشانہ بنانے میں مصروف رہے ہیں لیکن آج تک وہ اس حقیقت کا انکار کرتے رہے تھے.

دوسری طرف سے یمن کے تاحیات صدر علی عبداللہ صالح نے بھی کل سعودی عرب کی مدد و حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شدید جذباتیت کا اظہار کیا اور کل تک اہل تشیع کے ساتھ مذاکرات کے نعرے لگانے کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ اب حوثی مجاہدین کا قلع قمع کرکے ہی دم لیں گے کیونکہ ان کے سعودی دوست اعلانیہ طور پر جنگ میں کود پڑے ہیں.

صالح نے شیعہ مجاہدین کے مدمقابل اپنی پے درپے فوجی ناکامیوں پر پردہ ڈالتے ہوئے کہا: ہم گذشتہ برسوں سے اہل تشیع کے خلاف فوج کو متحد کرنے کے لئے مشقیں کرتے آرہے تھے مگر اب نئی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے!

علی عبداللہ صالح نے مسلسل سعودی امداد سے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ جنگ بند نہ ہوگی اور اب ہمارے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ ہمارے کتنے فوجی قربان ہوجاتے ہیں اور ہمیں کتنے اخراجات کرنے پڑیں گے!!

دریں اثناء حوثی مجاہدین نے اعلان کیا ہے کہ آج ہی شیعہ مجاہدین کی فائرنگ سے یمنی فضائیہ کا ایک جنگی جہاز سرنگوں ہوگیا ہے. 

شیعہ مجاہدین کے ترجمان محمد عبدالسلام نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ مجاہدین کی طیارہ شکن توپوں نے سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ایک گاؤں "راضہ" پر بمباری کرنے والے یمنی فضائیہ کے ایک طیارے کو مارگرایا ہے.

یمنی افواج کے ترجمان نے طیارہ گرنے کی اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ روسی ساخت کا ایس یو (سوخو) بمبار طیارہ فنی خرابی کی بنا پر گر گیا ہے.

حوثی مجاہدین کے ترجمان نے کہا کہ روسی ساخت کا یہ بمبار طیارہ تیسرا طیارہ تھا جو مجاہدین کے ہاتھوں سرنگوں ہوگیا ہے.

تا ہم یمنی افواج نے تینوں طیاروں کی سرنگونی کو فنی خرابی کا نتیجہ قرار دیا ہے.

دوسری طرف سے رائٹرز نیوز ایجنسی نے سعودی عرب کے ایک اعلی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے متعدد فوجی ہلاک، زخمی اور لاپتہ ہوگئے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق شیعیان یمن کے خلاف سعودی فوج کے حملے میں تین سعودی فوجی ہلاک اور چار لاپتہ ہوگئے ہیں جبکہ پندرہ سعودی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایک اور اطلاع کے مطابق شیعہ مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں سعودی عرب کے سات فوجی ہلاک ہوئے ہيں۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے "جازان" نامی علاقے کے صامطہ اسپتال کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی  عرب کے دو فوجی جمعہ کے دن اور پانچ فوجی تین روزقبل ہونے والی جھڑپوں میں مارےگئے ہیں جبکہ120 سعودی فوجی زخمی بھی ہوئے ہيں۔