15 جون 2009 - 19:30

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے محمدخزاعی نے صہیونی ریاست کے جرائم کے سلسلے ميں اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر سلامتی کونسل کی بھرپورتوجہ کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔

محمدخزاعی نے بدھ کے دن سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں جسٹس گولڈاسٹون کی رپورٹ کے بارے میں بحث کرنے کیلئے سلامتی کونسل کی خصوصی نشست میں کہا کہ اس رپورٹ کا جائزہ سلامتی کونسل کی آزمائش ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے قبل غزہ کے بحران کے سلسلے میں موثر اقدام کرنے میں تاخیر کی وجہ سے سلامتی کونسل کی ساکھ کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ جون کو جسٹس ریچرڈ گولڈاسٹون کو غزہ میں صہیونی جرائم کے سلسلے میں تحقیق کی ذمہ داری سونپی تھی؛ گولڈاسٹون نے تین مہینے کی تحقیق کے بعد سلامتی کونسل میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔باوجود اس کے کہ  اس رپورٹ میں غزہ میں صہیونی جرائم کے صرف چند پہلوؤں کی جانب اشارہ کیاگیا ہے لیکن غزہ پر صہیونیوں کے وحشیانہ حملے میں چودہ سو سے زائد فلسطینیوں کی شہادت اور پانچ ہزار سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔جسٹس گولڈ اسٹون کی رپورٹ کے بارے میں سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس ایسے حال میں ہورہا ہے کہ صہیونی ریاست نے گذشتہ ہفتوں میں تازہ ترین جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے مسجدالاقصی کی توہین کی ہے ۔اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے گولڈ اسٹون کی رپورٹ پر سلامتی کونسل کی بے اعتنائی پر تنقید کرتے ہوئے اس لیت و لعل کو اقوام متحدہ کے کردار کی کمزوری اور اس منفی پیغام کے عام ہونے کا سبب قرار دیا کہ قوموں کو عالمی اداروں سے انصاف کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔محمدخزاعی نے کہا کہ بے شک اس قسم کی سوچ سے بین الاقوامی اداروں کا انجام برا ہوگا۔