6 جولائی 2016 - 18:08
لاہور کی بادشاہی مسجد میں نماز عید کا بڑا اجتماع + تصاویر

پاکستان میں دنیا کے کئی ممالک کی طرح 1437 ہجری کی عید الفطر منائی گئی۔

پاکستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں نماز عید کے چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئے، جس میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔

وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں نے اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے تاکہ کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

بچے بھی ذوق و شوق کے ساتھ نماز میں اپنے والدین کے ساتھ اجتماع گاہ آئے — فوٹو : اے ایف پی
بچے بھی ذوق و شوق کے ساتھ نماز میں اپنے والدین کے ساتھ اجتماع گاہ آئے
نماز عید کے لیے بچے بھی والدین کے ساتھ عید کی نماز کے لیے عید گاہ آئے — فوٹو : اے ایف پی
نماز عید کے لیے بچے بھی والدین کے ساتھ عید کی نماز کے لیے عید گاہ آئے 
خواتین نماز عید کے بعد ایک دوسرے سے ملنےکے ساتھ ساتھ سیلفی بھی ضرور لیتی نظر آئیں — فوٹو : اے ایف پی
خواتین نماز عید کے بعد ایک دوسرے سے ملنےکے ساتھ ساتھ سیلفی بھی ضرور لیتی نظر آئیں 
لاہور کی بادشاہی مسجد میں نماز عید کا بڑا اجتماع ہوا  — فوٹو : اے ایف پی
لاہور کی بادشاہی مسجد میں نماز عید کا بڑا اجتماع ہوا
کراچی میں عید گاہوں میں نماز کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے  — فوٹو : اے ایف پی
کراچی میں عید گاہوں میں نماز کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے 
عیدگاہوں میں داخل ہونے سے قبل سیکیورٹی اہلکار شہریوں کی جامہ تلاشی لیتے رہے  — فوٹو : اے ایف پی
عیدگاہوں میں داخل ہونے سے قبل سیکیورٹی اہلکار شہریوں کی جامہ تلاشی لیتے رہے 
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے سے ہی کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا  — فوٹو : اے ایف پی
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے سے ہی کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا 
نماز عید کے لیے اجتماع گاہ میں بڑی تعداد میں خواتین بھی آئیں  — فوٹو : اے ایف پی
نماز عید کے لیے اجتماع گاہ میں بڑی تعداد میں خواتین بھی آئیں
کوئٹہ میں بڑے میدانوں میں نماز عید کے اجتماعات منقعد کیے گئے  — فوٹو : اے ایف پی
کوئٹہ میں بڑے میدانوں میں نماز عید کے اجتماعات منقعد کیے گئے 
نماز عید کے بعد شہریوں نے خصوصی دعائیں بھی کیں  — فوٹو : اے ایف پی
نماز عید کے بعد شہریوں نے خصوصی دعائیں بھی کیں
کراچی میں کئی مقامات پر نماز عید کے بڑے اجتماعات دیکھنے میں آئے  — فوٹو : اے ایف پی
کراچی میں کئی مقامات پر نماز عید کے بڑے اجتماعات دیکھنے میں آئے
۔۔۔۔۔
/169