اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
''صاف چلی شفاف چلی '' کا سونامی مظفر آباد آزاد کشمیر سے کیا ٹکرایا کہ عاشق مزاج انصافی یوتھیے آپس میں ہی ٹکرا گئے۔اس ٹکراؤ سے ایک دن پہلے امریکہ میں مقیم میرے نہائت ہی پیارے بھائی اور دوست کے مظفرآباد میں قائم ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل پر چلنے والی ایک'' مہذب رپورٹ'' اور '' دعوت نامے '' کا انداز دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ کل کیا ہونے جارہا ہے۔ رپورٹ دیکھ کر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ یہ جلسے کی تیاری نہیں بلکہ'' کیٹ واک ''ہے ۔پائل کی جھنکار ،چوڑیوں کی کھنکار اور مورنی ورگی چال دیکھ کر مجھ جیسے سخت دل انسان کے جذبات بے قابو تھے ،نرم گداز طبیعت اور کمزور دل والوں کا کیا حال ہوا ہو گا وہ وہی بتا سکتے ہیں۔۔۔! میرا گمان یقین میں بدل چکا تھا کہ وزارت عظمی کی خواہش کا تعاقب کرنے والے عمران خان کل جو '' سرکس '' لگانے جا رہے ہیں، شوخی ء رنگ ِ حنا ء دیکھنے کے لیے دُکھیا دل منچلے یقیناََ عمران خان کے ''شو '' کا رُخ کریں گے اور چوڑیوں کی کھنک اور رنگ ِ حنا ء کا جادو منہ چڑھ کر بولے گا۔ پھر ہوا یوں کہ مقررہ وقت پر جونہی ''مجمع '' لگا ، سانپ پٹارے سے باہر نکلا، مظفرآباد کے سہانے موسم اور قوس قزاح کے رنگوں کے بیچ رنگین لباس، حنا کی خوشبو ، چوڑیوں کی کھنک اور پائل کی جھنک نے یوتھیوں کے دلوں کی دھڑکن کو بے ترتیب کردیا۔ رنگ برنگے پنڈال میں لہراتے آنچل، کھنکتی چوڑیوں کی مدہم آواز،، سانسوں میں حنا ء کی خوشبواور ہاتھوں پر اس کے حسین رنگ، آنکھوں میں کاجل، ہونٹوں پر مُسکان، پتلی کمر اور بہکی بہکی چال، الجھے الجھے بال اور ڈی جے بٹ کی سریلی دھنوں پر خوبصورت رقص نے طبیعتاََ رنگین، شوقین اور عاشق مزاج انصافی یوتھیوں کے جذبات کو مچل دیا ۔مستانی فضاؤں اور زلفوں کو چھو کر آنے والے ہواؤں میں ابرار الحق کے گانے' ' تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے لہریں بھی ہوئیں مستانی سی '' نے ماحول کو ایسا گرمایا اور انصافیوں پر ایسا جادو کردیا کہ خواہشات ِ نفسانی کنٹرول سے باہر ہوئیں اور منچلوں نے صنف نازک کی حسین کلائیاں تھامنے کی تمنا کی جس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ بس کیا ہونا تھا کہ خان صاحب کا مکھڑا اور بہانے سے'' رُخ ِ یار'' کی زیارت کے لئے آنے والوں نے پہلے ایک دوسرے کی خوب پٹائی کی اورپھر بعد میں پولیس کو بھی اُنکی حُرمت ِ جوانی کا ذرا سا بھی لحاظ نہ آیا اور پھر پولیس کے ہاتھوں پٹائی کے بعد اصل تبدیلی رونما ہوئی۔ یہ ہے نیا پاکستان، آزاد اور انقلابی پاکستان۔خان صاحب کامیاب ہو گئے، آپ کو نیا پاکستان مبارک ہو۔ خان صاحب ان نعروں، ناچ، گانوں، بینڈ باجوں، دھمکیوں، گالیوں، یوٹرنز، اور پھرموسلا دھار بارش میں ابرار الحق کی سریلی آواز میں گائے جانیوالے بارش کے مشہور گانے ''تیرے بھیگے بدن کی خوشبو '' سے تبدیلی کا خوفناک پیغام آرہا ہے ۔۔ ''عمران خان دے جلسے وچ نچنے نوں جی کردا اے'' کی حسین تمنائیں، آرزوئیں اور خواہشات دلوں میں رکھ کرآپ کے '' شو'' میں جانے والی اس چسکا پارٹی اور بارش اور دھوپ میں رقص کرنے والے منچلوں اور منچلیوں کو یقین ہے کہ بھنگڑے اور بارش کے گانے انہیں ضرور انصاف دلائیں گے جو کہ ناممکن ہے۔یہ انصافی کُت خانہ بند کریں اور ایسا کلچر آزاد کشمیر میں منتقل نہ کریں، یہاں کے لوگ عزت دار، خواددار اور روادار ہیں اور قطعاََ اس طرح کے ناچ گانوں اور بینڈ باجوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔تبدیلی اسپیشلسٹ صاحب آپ سے دست بستہ گزارش ہے کہ '' ایاک نعبد و ایاک نستعین کے بعد اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم'' والی آیت بھی پڑھ لیا کریں تاکہ آپ سمیت آپکے یوتھیوں کو اللہ تعالی راہِ راست اورصراط مستقیم پر لائے اور انعام یافتہ لوگو ں کے راستے پر چلائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس جو کہ آزاد کشمیر میں کئی دھائیوں تک بر سر اقتدار رہی، جسکی آبیاری رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس، مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان، غازی کشمیرسردار فتح محمد کریلوی، راجہ محمد حیدر خان اور سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان فرماتے رہے گزشتہ کافی عرصے سے اُسکا نصب العین یہ بن چکا تھا کہ کیا اس کا کسی سیاسی جماعت سے اتحاد ہو گا کہ نہیں۔ پھر کُفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ،شب برات کے مقدس موقع پر مظفرآباد میں ضمیر فروشی ہوئی، صبح صادق ہوتے ہی دو جماعتی اتحاد کا اعلان کردیاگیا اور شب ِ برات کی عبادت و ریاضت کے بعدبنی گالہ کی دودھ کی نہر سے نہلائے ہوئے اور توبة العرفہ کے کمرے سے گذرنے والے بغیر پیندے کے لوٹے سے ملکراگلے پانچ سال کسی اور کے استنجے کے کام آنے کا عہد کیا گیا۔جو کل تک ایک دوسرے کے لئے چور اور ڈاکو تھے، آج و الیکشن میں ایک دوسرے کے پارٹنرز بن گئے۔ریاستی سیاست، ریاستی تشخص اور تحریک ِ آزادی کے سرخیل ذاتی مفاد کے حصول کی خاطر غیر ریاستی جماعت سے بغل گیر ہوگئے۔ مسلم کانفرنس کو نزاعی حالت میں پہنچانے اور عشق میں شرک کی حد یںعبور کرنے والے سردار عتیق احمد خان کی ریاستی ،غیر ریاستی اور ریاستی تشخص کی حقیقت افشا ں ہوتے ہی تاریخ نے اپنے آپ کو دہراتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مکروہ ،قبیح اور ضمیر وں کی خرید و فروخت کے ناجائز دھندے کی دستار فضیلت سردار عتیق احمد خان کے سر باندھی جس پر وہ بلا شبہ اکیلے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ یقیناََ یہ رمضان المبارک کی آمد اور شب برات پراُ نکی طرف سے آزاد کشمیر کے عوام کو ایک اور خوبصور ت، نایاب، بے مثل و بے مثال تحفہ ہے ۔ان ضمیر فروشوں اور ضمیر کے سوداگروں کو دیکھ کرمجھے ایک لطیفہ یا د آگیا۔ پرانے زمانے میں ضمیر الدین نامی ایک صاحب کتابیں فروخت کیا کرتے تھے۔ انہیں اپنے کتب خانے کے باہر بورڈ آویزاں کرنے کی سوجھی اور اس غرض سے کاتب کے پاس گئے اور کہا کہ '' بھائی ہمارا خوبصورت بورڈ بنائیں اور اس پر لکھیں ضمیر الدین کتب فروش'' خطاط نے تین روز بعد تیار شدہ بورڈ لے جانے کا کہا۔ وہ صاحب تین روز بعد بورڈ لے گئے اور جب بورڈ لگایا تو اس پر لکھا تھا '' کتب الدین ضمیر فروش'' یہی حال آزاد کشمیر کی اسمبلی کا ہے جسکے بارے میںمسلم لیگ ن کے سربراہ راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا ہے کہ یہ اسمبلی سیاسی طوائفوں کا اڈہ اور بازار ِ مصرہے اور اراکین اسمبلی کا کردار طوائف سے بھی بد تر ہے۔واقعی کونسل انتخابات کے موقع پر آزاد کشمیر اسمبلی میں طوائفوں کی منڈی کا سماں اور اس پر ضمیر فروشوں کا بورڈ آویزاں نظر آیا جسکا ساراہ کریڈٹ منظور وٹو اور اسکے ترکہ کے اکیلے وارث سردار عتیق احمد خان کو جاتا ہے جنہوں نے یہ کلچر آزاد کشمیر میں متعارف کروایا ۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ایسے کرداروں کو آزاد کشمیر کی سیاست سے الوداع ، ان نوسربازوں سے ہوشیاراور ایسے بدنما کرداروں اور چہروں کو مسترد کرنا ہوگا جنکی وجہ سے سیاست جیسا مقدس پیشہ '' کوٹھے'' کی '' طوائف '' کا طعنہ سہتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲