اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اس سال انقلاب اسلامی ایران ایسی حالت میں اپنی کامیابی کی سینتیسویں سالگرہ منا رہا ہے کہ دنیا سال ۲۰۱۶ میں اہم ترین تبدیلیوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ واقعات اپنے آخری دور میں زیادہ تیزی پکڑیں گے اور دنیا کی مجموعی فضا نئی سیاسی ادبیات کے ساتھ تبدیلی سے ہمکنار ہو گی ۔
انقلاب اسلامی ایران کی پیدائش اور اس کا گذشتہ ایک دہائی کا تجربہ ایسے مفاہیم اور مصادیق کی تبدیلی پر منتہی ہوا کہ جس کو مغربی ملکوں نے علاقے کی ملتوں کو بردگی کی اسارت میں لینے کے لیے کسوٹی پر رکھا تھا ۔ علاقے کی سطح پر ملتوں کی مقاومت کے لفظ کے ساتھ لفظ اسلامی جڑ گیا تھا اور خود اعتمادی کا نیا افق ان کی داخلی طاقتوں اور ان کے ما یملک کے ساتھ وجود میں آیا اور ایران عوامی نوعیت کی آزادی طلبی کی تحریکوں کی زاد گاہ بن گیا کہ جو اس سے پہلے اپنے قومی اعتقادات یا قوم پسندی پر اعتماد کرتے ہوئے یا سرمایہ داری اور کمیونزم کے دو نظریات پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی قومی شناخت کو پانا چاہتی تھیں ۔
۱۹۷۹ کا انقلاب ایک سیاسی واقعہ یا کسی ملک کی سرحدوں کے اندر کا ایک اجتماعی انقلاب نہیں تھا کہ جس کے اصولوں کی تشکیل کے بنیادی عناصر صرف داخلی اور سیاسی مفادات ہوں ، بلکہ وہ ایک بڑی آئیڈیالوجیکل تحریک تھی جو اندرونی سرحدوں میں پابند نہیں تھی اور یہی نقطہ مغربی خیمے کی ایران سے دشمنی کا آغاز تھا ۔
ان کو خوف تھا کہ اس انقلاب کے افکار کا دائرہ ایران کی سرحدوں سے باہر پھیلے گا اور علاقے اور دنیا کی ملتوں کے درمیان نئے مفاہیم اور تعریفیں جنم لیں گی جن کا انجام امریکہ اور مغرب کی شکست کے سوا اور کچھ نہیں ہو گا اور ایسا ہی ہوا بھی ۔ یقین کے ساتھ آج کہاجا سکتا ہے کہ ایران کے خلاف خطروں میں اضافہ دنیا اور علاقے میں اس کی تاثیر گذاری کی طاقت کے ساتھ براہ راست مربوط ہے ،اور دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ اس چیز کو علاقے میں جمہوریء اسلامیء ایران کی ایکشن کی طاقت کو پہچاننے کے معیار کے طور پر جا نا جا سکتا ہے ۔
مغرب کے خیمے نے انقلاب اسلامیء ایران کے آئیڈیالوجک افکار کی تاثیر کی مقدار کو اچھی طرح درک کر لیا تھا دوسرے لفظوں میں مغرب والے علاقے اور دنیا کی سطح پر ایران کے اسٹریٹجیک اور سیاسی نتائج سے تشویش میں مبتلا تھے ۔بڑی طاقتیں اس دن کی پیشین گوئی کر رہی تھیں کہ جب آزادی بخش تحریکیں اس انقلاب کی قومی ،اسلامی قدروں سے متائثر ہو کر بیدار ہو جائیں گی اور یہ چیز ان کو سخت پریشان کر رہی تھی ۔ ان کی دوسری پریشانی ایک انقلاب کا واقعہ ہونا تھا کہ جو مذہب کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوا تھا اور یہ چیز ان کے لیے کام کو اور زیادہ مشکل کر رہی تھی ۔
اور اب یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اگر ایران کا انقلاب اسلامی نہ ہوتا ؟ ۔۔۔ تو کونسا حادثہ رونما ہوتا ؟
اگر یہ انقلاب صرف ایران کی سر حدوں تک محدود رہ جاتا تو آج مشرق وسطی کے علاقے کی کیا حالت ہوتی ؟ کیا علاقے میں طاقت اور مقاومت کا توازن برقرار ہو تا ؟
کیا علاقے کی ملتوں کو استعمار گروں سے نجات پانے کی چھوٹی سی بھی امید ہوتی ؟
کیا مقاومت کی تحریکیں علاقے اور مقبوضہ سر زمینوں میں اسلامی صفت کے ساتھ وجود میں آتیں ؟
کیا آج وہ قومیت پرست اور وابستہ گروہوں پر اعتماد کرتے ہوئے غاصبوں کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہو سکتی تھیں ؟
آیا آج کسی میں ہمت ہوتی کہ مغرب کے خیمے اور سرمایہ داری کے مقابے پر اٹھ کھڑا ہوتا ؟
آیا آج صہیونی حکومت کی نابودی کے بارے میں سوچا جا سکتا تھا ؟
کیا لبنان کی حز ب اللہ ۳۳ روزہ جنگ میں کامیاب ہوتی ؟
آیا غزہ میں مرکاوا کے ٹینک الٹ سکتے تھے ؟
کیا صہیونی حکومت کے شکست نا پذیر ہونے کا افسانہ چکنا چور ہو سکتا تھا ؟
کیا آج مقاومت اسرائیل کی آنکھوں سے چین کی نیند سلب کر سکتی تھی ؟
کیا آج اسرائیل مذاکرات کے لیے تیار ہوتا ؟
کیا آج ملت غزہ ۲۲ دن کے مقابلے میں کامیابی کا مزہ چکھ سکتی تھیں ؟
کیا اسرائیل جنوب لبنان سے بھاگ کھڑا ہوتا ؟
کیا آج آزادی خواہی اور خود اعتمادی کی معمولی سی آواز بھی کانوں تک پہنچتی ؟
اور آیا علاقے میں اسلامی بیداری کی تحریک وجود میں آتی ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲