14 جون 2015 - 05:14
علما کرام کو مسلم اتحاد کے دفاع کے لیے اٹھ جانا چاہئے

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک ممتاز سنی عالم دین نے کہاہےکہ تکفیری نظریا ت کا دین اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے اورعلماءکرام کو مسلم اتحاد کے دفاع میں کھڑا ہونا چاہئے۔۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی مجلس میں جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان کے نمائندے اور ممتاز سنی عالم دین ‘‘مولوی نظیر احمد’’ نے  تکفیری دہشتگرد گرہوں کے کردار کی مذمت کرتے ہوئے  کہاہےکہ  اس گروہ کا دین اسلام سے دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

شہر تابات میں سنی مدرسے میں طلباء و علماء کرام سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے اسلام دشمن عناصر کی مسلمانوں کے درمیان انتشار پھیلانے کی مسلسل کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دشمن مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے مختلف حربے اپنا رہا ہے اور مسلمانوں میں عدم اتحاد پیدا کرنے میں کہیں حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ داعش جیسے تکفیری دہشتگرد گروہ کی حقیقی پہچان اس بدنام زمانہ دہشتگرد گروہ کے کردار سے لگایا جاسکتا ہے جس کا اسلام و قرآن سے کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ گروہ اپنے آقاؤں کے اہداف و مقاصد کا تحفظ کرنے میں مصروف عمل ہے۔

مسلمانوں کو دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں اسلام کا دفاع محض علماءکرام کے ہاتھوں میں ہی نہیں ہے بلکہ تمام مکتب فکر کے لوگوں کو اتحاد برقرا ر رکھنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲