اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 13جولائی 1931 کے شہدائے کشمیر کو انکی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ یہ خونین سانحہ کشمیری عوام کی سیاسی جدوجہد کا ایک سنگ میل ہے جس نے کشمیری قوم کو شخصی آمریت کے خاتمے کے لئے ایک منظم تحریک کا حوصلہ دیا۔
آغا صاحب نے کہا کہ سینٹرل جیل سرینگر سے باہر دو درجن سے زیادہ کشمیریوں کی ڈوگرہ فوجیوں کے ہاتھوں شہادت کا واقعہ شخصی آمریت کے ظلم و استبداد کی ایک وحشیانہ کڑی تھی اسی خونین سانحہ کے بعد جمہوری اسلاجات کی تحریک زور و شور سے چلی ڈوگرہ شاہی اگرچہ کچھ جمہوری اسلاجات کے لئے مجبور ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیری قوم کو عملاً ہمیشہ جمہوری حقوق سے محروم رکھا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ڈوگرہ شاہی نے جاتے جاتے ریاست جموں و کشمیر کو سیاسی غیر یقینیت کے دلدل میں دھکیل دیا جس کی وجہ سے تنازعہ کشمیر نےجنم لیا اس طرح 13 جولائی 1931کے ان شہدائے کشمیر کا مشن تشنہ تکمیل رہا جس کو منتفی انجام تک لے جانے کے لئے کشمیری قوم سات دہایوں سے مصروف جدو جہد ہیں آغا صاحب نے کہا کہ 13جولائی یوم شہدائے کشمیر والے تعطیل کو منسوخ کرنا مذکورہ شہدا کی قربانیوں کی توہین ہیں اور اس خونین سانحہ کے ذمہ دار نظام سے یکجہتی کے مظاہرے کے مترادب ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242