6 جولائی 2020 - 16:45
فرقہ بہائیت کی مختصر تاریخ

بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا حسین علی نوری (بہاء اللہ) اللہ کے پیغمبر تھے۔ بہاء اللہ کا باپ ایران کے بادشاہ قاجار کے دور میں درباری مشیر تھا اور حکومت میں کافی اثر و رسوخ رکھتا تھا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: فرقہ بہائیت کی داستان در حقیقت ’فرقہ بابیہ‘ سے جڑتی ہے۔ فرقہ بابیہ کا آغاز ’سید علی محمد شیرازی‘  سے ہوتا ہے جو ’’باب‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔ یہ شخص پندرہ سال کی عمر میں اپنے ماموں کے ہمراہ ایران کے شہر بوشہر میں تجارت کی غرض سے گیا اور وہاں تجارت کے ساتھ ساتھ اس نے ریاضت کر کے کچھ شعبدہ بازی بھی سیکھ لی۔ بعد از آں بوشہر میں واقع ایک یہودی کمپنی ’’ساسون‘‘ میں نوکری اختیار کی اور اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی وجہ سے بہت جلد وہ کمپنی کے اہم افراد کے اندر اثر و رسوخ پیدا کر گئے۔ علی محمد شیرازی نے یہودی کمپنی میں نوکری کے بعد ۱۹ سال کی عمر میں ایک معروف عالم دین ’سید کاظم رشتی‘ کے درس میں شرکت کرنا شروع کر دی اور جب سید کاظم رشتی انتقال کر گئے تو اس نے ان کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا۔
کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنی شعبدہ بازی کے ذریعے لوگوں میں شہرت پانا شروع کی اور  خود کو بارہویں امام کا ’باب‘ ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں ’باب‘ کا لقب پا لیا اور اسی بنا پر فرقہ بابیہ وجود میں آیا۔
فرقہ بابیہ کے پیروکاروں اور علی محمد شیرازی کے مریدوں کی تعداد دن بدن بڑھنے لگی اور دھیرے دھیرے ایران کے دیگر شہروں میں اس شخص کے خرافات پھیلنے لگے اور لوگ گمراھی کا شکار ہونے لگے۔ تبریز کے کچھ علماء نے ولیعہد کی موجودگی میں اس کے ساتھ ایک مناظرہ کے دوران اسے شکست سے دوچار کیا جس کے نتیجے میں حکومت نے اسے جیل میں بند کر دیا۔ جیل سے ایک معافی نامہ حکومت کے نام لکھ کر اپنے کاموں سے توبہ کی اور معافی مانگ کا رہائی کا مطالبہ کیا۔
حکومت وقت نے سید علی محمد شیرازی (باب) کو جیل سے رہا کیا مگر رہائی کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ اپنے پیروکاروں کے ذریعے پورے ملک میں ایک شورش برپا کر ڈالی۔ جس کے بعد امیر کبیر نے اسے پھانسی دینے کا حکم دے دیا جس کے نتیجے میں ۱۲۶۶ ہجری قمری میں سید علی محمد شیرازی (باب) کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔
علی محمد شیرازی نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا لیکن کئی لوگوں نے اس کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا اس کے اہم ترین دعویداروں میں ’مرزا یحییٰ صبح ازل‘ ، ’شیخ علی ترشیزی عظیم‘ اور ’مرزا حسین علی نوری‘ المعروف ’’بہاء اللہ‘‘ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
بہائیوں کو ’مرزا حسین علی نوری‘ کہ جنہیں ’’بہاء اللہ‘‘ کا لقب دیا گیا کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی۔ اور ان کے لقب بہاء اللہ کے نام سے ان کے پیروکاروں کو ’بہائی‘ کہا جانے لگا۔

بہائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا حسین علی نوری (بہاء اللہ) اللہ کے پیغمبر تھے۔ بہاء اللہ کا باپ ایران کے بادشاہ قاجار کے دور میں درباری مشیر تھا اور حکومت میں کافی اثر و رسوخ رکھتا تھا۔ دوسری طرف امیرکبیر کے حکم سے ’سید علی محمد باب‘ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ان کے مریدوں کو عراق ملک بدر کر دیا گیا تھا جس میں ’مرزا حسین علی نوری‘ (بہاء اللہ) بھی شامل تھے لیکن امیر کبیر کے قتل یا انتقال کے بعد جب مرزا آقاخان نوری نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے مرزا حسین علی نوری کو عراق سے واپس تہران بلوا لیا۔
کچھ عرصہ کے بعد بابیوں کی جانب سے بادشاہ ایران ’ناصر الدین شاہ‘ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا معلوم ہوا کہ مرزا حسین نوری کا اس میں ہاتھ تھا۔ اسی وجہ سے بہاء اللہ کو جیل میں بند کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ وہ پہلے روس کے سفارتخانے میں پناہ حاصل کر چکے تھے کچھ مہینے جیل میں رہنے کے بعد روسی حکومت کی طرف سے ڈالے گئے دباؤ کی بنا پر انہیں رہائی مل گئی۔ اور اس کے بعد روسی سفارتخانے نے انہیں روس میں زندگی بسر کرنے کے لیے دعوت دی۔
بہاء اللہ نے روسی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے بھائی مرزا یحییٰ کے ساتھ عراق کا رخ کیا۔ بغداد میں بہائیوں کے نزدیک انہیں کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور انہوں نے وہاں تبلیغی سلسلہ شروع کیا۔
دوسری طرف بابیوں کے درمیان ’سید علی محمد باب‘ کی موت کے بعد جانشینی پر کافی اختلاف وجود میں آیا اور بہاء اللہ کے مخالفین میں روز بروز اضافہ ہونے لگا، بہاء اللہ کافی ہوشیاری دکھاتے ہوئے اپنے مخالفین کو ایک ایک کر صفحہ ھستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن ناکامی کی صورت میں حکومت عثمانیہ انہیں استنبول چلے جانے کا مشورہ دیا۔
بہاء اللہ اپنے بھائی مرزا یحیی کے ساتھ ۱۸۶۳ میں استنبول کی طرف روانہ ہوئے اور ’ادرنہ‘ علاقے میں سکونت اختیار کی۔ چار سال یہاں پر رہنے کے بعد دونوں بھائیوں میں شدید اختلاف ہوا، جس کے بعد مرزا یحییٰ کو جزیرہ قبرس میں بھیج دیا گیا اور مرزا حسین علی نوری کو ’حیفا‘ کے نزدیک ’عکا‘ کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ بہاء اللہ اور ان کے بیٹے عباس افندی (عبد البہاء) ’عکا‘ میں رہنے کے بعد یہودیوں اور برطانوی فوجیوں سے کافی گہرے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد ان کے بیٹے نے صہیونی ریاست کی تشکیل میں برطانیہ اور یہودی لابی کی کتنی مدد کی اس کا تذکرہ بعد میں کیا جائے گا۔
بہاء اللہ ۷۵ سال کی عمر میں ۱۸۹۲ میں انتقال کر گئے اور ان کے بیٹے عباس افندی یا وہی ’عبد البہاء‘ نے باپ کی جانشینی اختیار کی اور بہائیت کو پھیلانے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہ کیا۔

.............

242