ایران کے حالیہ حملے پچھلی کارروائیوں کے مقابلے میں مختلف نمونہ پیش کر رہی ہیں۔ یہ کارروائیاں گذشتہ طریقۂ کار کے برعکس، صرف جنگی سازوسامان کو نشانہ بنانے پر مرکوز نہیں تھیں، بلکہ ان حملوں میں رسد کے بنیادی ڈھانچے، کمانڈ سینٹروں اور سپورٹ نیٹ ورکس پر حملے کا ایک آمیزہ استعمال کیا۔
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے حالیہ حملے پچھلی کارروائیوں کے مقابلے میں مختلف نمونے کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں گذشتہ طریقۂ کار کے برعکس، صرف جنگی سازوسامان کو نشانہ بنانے پر مرکوز نہیں ہیں، بلکہ ان حملوں نے رسد کے بنیادی ڈھانچے، کمانڈ سینٹرز اور سپورٹ نیٹ ورک پر حملے کا ایک آمیزہ استعمال کیا؛ یہ تبدیلی جس کا مغربی حکام اور تجزیہ کاروں نے بھی تذکرہ کیا ہے اور اسے ایران کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی علامت قرار دیا ہے۔

دوسری اور اخری قسط:
آپریشنل اخراجات میں اضافہ اور کارکردگی میں کمی
ترتیب و تعیناتی میں یہ تبدیلی دشمن پر قابلِ ذکر آپریشنل اخراجات مسلط کرتی ہے۔ رسد میں کردار ادا کرنے والے طیاروں کو دور دراز ایئربیسوں پر منتقل کرنا، آپریشن کے علاقے تک پہنچنے کا وقت، ایندھن کی کھپت، آلات کا استعمال اور مرمت و دیکھ بھال کے چکر پر دباؤ بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر ایندھن بھرنے کے شعبے میں، فاصلہ بڑھنے سے طیارے کی زیادہ صلاحیت مشن کے علاقے تک پہنچنے میں صرف ہوتی ہے اور ایندھن بھرنے کے نیٹ ورک کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔
آواکس اور انٹیلیجنس سسٹمز کے معاملے میں بھی صورتحال ایسی ہی ہے۔ آپریشن کے علاقے سے طویل فاصلہ، ردِ عمل کے وقت کو طویل تر کر دیتا اور فضائی انٹیلیجنس کوریج اور کمانڈ کا عمل برقرار رکھنے کو مشکل اور بہت مہنگا کر دیتا ہے۔

نتیجتاً، امریکہ کو اسی سطح کی کوریج اور آپریشنل صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لئے زیادہ فلائٹ سائیکلز اور اعلیٰ وسائل کی ضرورت ہوگی۔
لاگت مسلط کرنے کی حکمتِ عملی؛ امریکی آپریشنل رویے کو تبدیل کرانا
اسٹراٹیجک نقطہ نظر سے، اس آپریشن کا اہم ترین نتیجہ صرف چند مخصوص اہداف کی تباہی نہیں، بلکہ اس کا مقصد امریکہ کے آپریشنل رویئے میں تبدیلی لانا ہے۔ ایران نے سپورٹ کے اہم مراکز کو نشانہ بنا کر امریکہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے قیمتی اثاثوں کا ایک حصہ پورے خطے میں منتشر کر دے اور جنگی قوت کی اتنی ہی مقدار پیدا کرنے کے لئے زیادہ لاگت ادا کرے۔
یہ وہی 'لاگت مسلط کرنے کی حکمتِ عملی' (Cost Imposition Strategy) ہے؛ یعنی دشمن کو زیادہ وسائل صرف کرنے، آپریشن کی پیچیدگی بڑھانے اور کارکردگی کم کرنے پر مجبور کرنا، بغیر اس کے کہ اس کی جنگی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کیا جائے۔
ایران کے حالیہ حملے ''آلات اور اوزاروں کی براہِ راست تباہی' کی منطق' سے 'سپورٹ اور جنگی قوت پیدا کرنے کی صلاحیت کو کھوکھلا بنانے' کے مرحلے میں منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رسد، کمانڈ اور سپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی نے امریکہ کو ترتیبات تبدیل کرنے، اسٹریٹجک اثاثے منتشر کرنے اور زیادہ آپریشنل اخراجات کا متحمل ہونے پر مجبور کیا ہے۔
امریکہ کی جنگی مشین اب بھی کام جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن جنگی صلاحیت کی گذشتہ سطح حاصل کرنے کے لئے اسے اب زیادہ وسائل، وقت اور سپلائی کی قابلیت اور گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس دائرے میں، ایران کے آپریشن کا اصل اثر امریکہ کی مطلق صلاحیت میں کمی نہیں ہے، بلکہ مغربی ایشیا میں اس صلاحیت کو برقرار رکھنے اور استعمال کرنے کی لاگت میں اضافہ کرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مہدی طلوع وند
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ