اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تقریبا ڈیڑھ مہینہ قبل مغربی یمنی بندرگاہ “الحدیدہ” پر قبضے کے لئے شروع ہونے والی جنگ میں یہودی ریاست، بنی سعود، مصر، فرانس اور امریکہ براہ راست کود چکے ہیں لیکن انصار اللہ نے اس کو ایک “سنہری موقع” قرار دیا ہے ان کے مقابلے میں سات اضلاعی امریکی، فرانسیسی، یہودی، اماراتی اور سعودی اور مصری جارح محاذ نے اس جنگ کو “سنہری کامیابی” قرار دیا؛ ممکن ہے کہ دونوں واقعات رونما ہی ہوجائیں: جارح اتحاد شدید ترین بمباریوں اور فضائی حملوں کی مدد سے ـ جبکہ یمنیوں کے پاس یہ امکان ناپید ہے ـ الحدیدہ کے ہموار ساحلی علاقوں پر ایک تیز رفتار اور کم خرچ قبضہ کرسکے اور آخرکار مختلف محاذوں پر تین سالہ طویل جنگ میں پہلی مرتبہ ایک “حصولیابی” اپنے ریکارڈ میں ثبت کرسکیں، لیکن دوسری طرف سے ـ جیسا کہ مأرب، تعز، نہم اور صنعا میں لڑی جانے والی جنگوں کے تجربے سے ثابت ہوا ہے ـ الحدیدہ کی جنگ جارح افواج کے لئے بھی ایک “ہلاکت خیز” دلدل کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ جیسا کہ تقریبا چھ ہفتے قبل الحدیدہ پر قبضے کے لئے شروع ہونے والی جنگ میں جارح اتحاد کو کم از کم ۷۰۰ لاشیں اٹھانا پڑی ہیں۔ اس جنگ میں کچھ خاص خاص نکات مضمر ہيں:
۱۔ یمنی جنگ کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: پہلے مرحلے میں انصار اللہ نے جنگی حکمت عملی کے تحت جنوبی علاقوں کو ترک کردیا اور اپنی قوت کو ۱۲ شمالی صوبوں پر مرکوز کیا؛ یہ مرحلہ ایک سال میں پایہ تکمیل کو پہنچا؛ دوسرے مرحلے میں انصار اللہ کو شمال میں بنی سعود اور بنی نہیان اور ان کے یمنی تنخواہ خواروں نے اپنے حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس مرحلے کے ستائیس مہینے پورے ہورہے ہیں۔
انصار اللہ نے ۲۷ مہینے قبل جنوبی یمن کو ترک کردیا لیکن عربی اتحاد کہلوانے والے سعودی ـ امریکی ـ یہودی محاذ ابھی تک جنوب میں استحکام قائم نہیں کرسکا ہے۔ اور جنوبی علاقے بنی سعود نواز اور بنی نہیان نواز ٹولوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ حضرموت ایک وسیع و عریض اور کم گنجان آباد صوبہ ہے اور اس کا بڑا حصہ امارات کے کنٹرول میں ہے؛ اس صوبے کا شمالی علاقہ “انصاراللہ” کہلوانے والی “القاعدہ” ٹولے کے کنٹرول میں ہے۔ عدن کے چھوٹے صوبے اور اہم ترین یمنی بندرگاہ کا کچھ حصہ بنی نہیان کے کنٹرول میں ہے اور باقی حصہ سعودی نواز “بن دغر” کی خودخواندہ حکومت کے قبضے میں ہے۔ تغز کا کچھ حصہ بنی نہیان کے ہاتھ میں اور باقی علاقے حزب الاصلاح کے ہاتھ میں ہے۔ عمان کی سرحدوں سے متصل صوبے “المسترہ” کا کنٹرول بنی سعود کے کنٹرول میں ہے۔
یہ جارح قوتیں اگرچہ بظاہر ایک اتحاد کی صورت میں یمن پر قابض ہوئی ہیں لیکن اور ان کے درمیان بھی زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی غرض سے وقتا فوقتا جھڑپوں کی خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن رہی ہیں اور امارات بن دغر کی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کرتا!
دوسرے مرحلے میں یمن کے صدر محمد علی الحوثی کی حکومت کے زیر انتظام علاقوں پر قبضے کے لئے لڑی جانے والی جنگ بہت سستی سے بڑھی اور جارح اتحاد کو بےتحاشا جانی اور مالی نقصانات برداشت کرنا پڑے؛ بنی سعود اور بنی نہیان سے وابستہ ۱۰ہزار فوجی لقمہ اجل بنے اور کئی گنا زخمی ہوئے۔ دوسرے مرحلے میں انصار اللہ نے اپنے دفاع اور جنگ کے خاتمے کے لئے اپنے حملوں کا سلسلہ سعودی عرب کے جنوبی صوبوں “عسیر، جیزان اور نجران” تک پھیلا دیا (جو در حقیقت یمن سے الگ کئے جانے والے مقبوضہ علاقے) اور ان صوبوں کے بہت سے علاقوں کو سعودیوں کے قبضے سے چھڑا لیا ہے۔ ان ۲۷ مہینوں کے دوران سعودی ـ اماراتی اتحاد کو شرمناک ناکامیوں اور شکستوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملا ہے۔
اگر ہم مذکورہ جنگوں کے تجربے کو مد نظر رکھ کر مستقبل کی پیشنگوئی کرنا چاہیں، تو مغربی ساحل پر پھیلے ہوئے لمبائی کے لحاض سے بہت طویل اور چوڑائی کے لحاض سے کم چوڑے صوبے “الحدیدہ” میں لڑی جانے والی جنگ انصار اللہ اور یمنی عوام کے لئے ایک سنہری موقع ہے اور وہ اس جنگ میں جارح دشمن کو بھاری جانی نقصانات سے دوچار کرسکیں گے؛ چنانچہ یمن سے کم ہمدردی والے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے الحدیدہ کی جنگ میں انسانی المیہ پیش آنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
۲۔ اس جنگ میں اگرچہ یہودی ریاست اور مصر بھی کردار ادا کررہے ہیں لیکن اس جنگ میں بنیادی کردار سعودی ـ اماراتی ـ امریکی ـ فرانسیسی ـ برطانوی اتحاد ادا کررہا ہے۔ اور انھوں نے ایک پانچ کونیا محاذ قائم کیا ہے اور ممکن ہے کہ یہ حملہ تیزی سے کامیابی کی طرف گامزن ہوکر یمن کے شمالی ترین نقطے تک پھیل جائے اور سمندر کے ساتھ انصار اللہ کا رابطہ منقطع کرے اور خوراک، اسلحے اور مالی حوالے سے شدید مشکلات سے دوچار کردے۔ گوکہ ساحلوں پر حملہ کچھ اور ہے اور ان علاقوں کو اپنے قابو میں رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا کچھ اور!
شک نہیں ہے کہ یمن کی افواج اور عوامی کمیٹیوں کے پاس لڑاکا اور بمبار طیارے بھی نہیں ہیں اور مؤثر فضائی دفاعی نظام بھی نہیں ہے؛ چنانچہ شیطانی مخمس کے طیارے کسی رکاوٹ کا سامنا کئے بغیر حملے اور ان کی زمینی فوجیں بھاری گولہ باریوں کی آڑ میں کچھ ساحلی علاقوں پر قبضہ کرسکتی ہیں؛ لیکن طیارے مسلسل بمباری نہیں کرسکتے اور علی الدوام فضا میں نہيں رہ سکتے۔ چنانچہ جب وہ اپنی کامیابی سے مطمئن ہوجائیں تو قابض زمینی دستوں کو فضائی پشت پناہی کے بغیر اپنے مورچوں کی حفاظت کا بیڑا اٹھانا پڑتا ہے؛ یہ وہی مرحلہ ہے جب ای روایتی قابض فوج کے بغیر گوریلا جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔
ضروری معلومات کچھ یوں ہیں کہ فضائی حملوں اور بحری جہازوں کی شدید گولہ باریوں اور بمباریوں کی آڑ میں ساحلی علاقوں پر پیشقدمی کرنے والی زمینی افواج میں محسن الاحمر کے وفادار سابق یمنی فوج کے پانچ بریگیڈ، کرائے کے سوڈانی فوجیوں کا ایک بریگیڈ (جس میں شامل اجرتی قاتل فوج کا حصہ نہیں ہے اور روزانہ ۵۰ ڈالر اجرت لے کر لڑ رہے ہیں)، القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کی ایک یونٹ، اماراتی فوج کے دو بریگیڈ، سعودی فوج کے دو بریگیڈ، فرانسیسی فوج کی ایک یونٹ، برطانوی فوج کے چند سو فوجی، امریکی فوج کی ایک پلاٹون اور مفرور صدر منصور ہادی کی قبائلی فوج کا ایک بریگیڈ شامل ہیں۔
ان افواج کا آمیزہ الحدیدہ کی لڑائی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ انصار اللہ کے پاس اس قسم کی کلاسک اور نیم کلاسک افواج کے ساتھ لڑنے کا طویل تجربہ ہے اور اس کے خلاف جنگوں میں ہمیشہ کامیاب رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو روز قبل انصار اللہ کے کمانڈر نے کہا ہے کہ الحدید کی جنگ، جنگ کا اختتام نہیں ہے بلکہ دشمن کو فرسودگی اور تھکاوٹ سے دوچار کرنے والی جنگ (Attrition warfare) کا آغاز ہے جس کا انصار اللہ تحریک کم اخراجات پر انتظام کا تجربہ رکھتی ہے جبکہ یہاں جارح فوجوں کی تعیناتی پر بہت بھاری اخراجات آئیں گے اور انہیں مسلسل جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران دشمن کے ۵۰۰ فوجی کام آئے ہیں اور انصار اللہ اور یمنی فوج کے شہداء کی تعداد ۳۰ تک پہنچی ہے۔ یہ اسی بات کا راز ہے جس کا اظہار انصاراللہ اور یمنی افواج کے کمانڈروں نے “سنہری موقع” کا نام دیا ہے اور “سنہری فتح” پر مبنی مغربی ـ عربی ـ عبری محاذ کے دعوے کا مذاق اڑایا ہے۔
۳۔ الحدیدہ میں لڑی جانے والی گھمسان کی لڑائی میں انصار اللہ کی جنگ حکمت عملی واضح ہے۔ انصار اللہ کی روش یہ ہے کہ وہ دشمن کے پیدل دستوں کو گھیر لیتی ہے، اور ان کے اندر بھی اپنے فوجیوں کو خفیہ طور پر دشمن کے دستوں میں داخل کردیتی ہے اور یوں دشمن اپنی فوج کی فضائی پشت پناہی سے عاجز ہوجاتا ہے اور اگر دشمن فضائی حملوں کا سہارا لے تو ان حملوں میں انصار اللہ کو کم اور ان کے اپنے دستوں کو کئی گنا زیادہ جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف سے سے انصار اللہ کے عسکری دستے ـ جو جارح افواج کے برعکس علاقے سے مکمل طور پر واقف ہیں ـ دشمن کے دستوں کو تقسیم در تقسیم کرکے ہر دستے کو الگ الگ اپنے جال میں پھنسا دیتے ہیں اور ان کو بھاری جان نقصانات سے دوچار کر دیتے ہیں۔ عید فطر (۱۴۳۹ھ) سے دو دن قبل یمنی فوج اور عوامی کمیٹیوں نے الغازہ، الاریمی، اور الجاج میں جارح افواج کے باہمی رابطے کو منقطع کردیا اور یوں الحدیدہ بندرگاہ پر قبضہ جمانے کے لئے ایک ہفتے سے جاری کاروائی ـ جسے عید کے فورا بعد پورے صوبہ الحدیدہ پر قبضے پر منتج ہوکر مکمل ہونا تھا ـ عید تک شہر الحدیدہ سے دس کلومیٹر دور ہی رک گئی اور جارح افواج الحدیدہ کے ہوائی اڈے پر اپنا قبضہ قائم نہیں رکھ سکی۔ یہ ہوائی اڈہ شہر سے ۱۰ کلومیٹر دور واقع ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر پانج کونیا اتحاد نے بندرگاہی شہر الحدیدہ پر قبضہ کرکے اسے ایک عرصے کے لئے اپنے قبضے میں رکھنے کا ارادہ کیا ہے تو انہیں تعز کی جنگ کو ضروری یاد رکھنا اور بھاری جانی نقصانات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ادھر انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر کہ دشمن کی افواج ساحلی پٹی پر شمال کی طرف پیشقدمی کریں گی، اتنا ہی ان کو زیادہ کانٹے دار اور شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ ان علاقوں میں انصار اللہ کے زیادہ سے زیادہ دستے تعینات اور جارحین کا استقبال کے لئے تیار کھڑے ہیں۔
۴۔ جیسا کہ انصار اللہ کے ترجمان “محمد بن عبدالسلام” نے جمعہ (۱۵/۶/۱۸) کو بیان کیا: پہلی بات یہ ہے کہ حدیدہ کی جنگ ایک امریکی، برطانوی اور فرانسیسی جنگ ہے اور جنگ کی کمان مغرب کے ہاتھ میں ہے اور ان ہی کے طیارے اور بحری جہاز علاقے کی بمباری اور گولہ باری میں سب سے بڑا کردار ادا کررہے ہیں۔ اگر ہم مان لیں کہ ایسا ہی ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کاروائی طویل مدت جاری رہے گی؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے ان تین ملکوں کے عسکری رویوں کا تجزیہ کرنا پڑے گا۔
ان تین ملکوں سمیت نیٹو کا عسکری نظام “کم عرصے میں فیصلہ کن حملہ” کے قاعدے پر استوار ہے اور کئی مہینوں تک جاری رہنے والی طویل جنگ میں ملوث ہونے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔ ہم اس قاعدے کو ۱۹۹۴ میں بوسنیا کی جنگ سے ہی نیٹو کی تمام تر جنگوں میں اس قاعدے کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ قاعدہ یا رویہ گوریلا جنگوں کے مقابلے میں ایک نقص اور کمزوری سمجھا جاتا ہے؛ کیونکہ ایسے حالات میں ایک چھاپہ مار کی حکمت عملی بالکل مختلف ہوتی ہے جن کے اہم تر مختصات میں سے ایک “طاقتور جنگ کے خلاف تھکا دینے والی جنگ لڑنا” ہے۔ چھاپہ مار جنگجو ـ جسے یہاں ایک شہادت طلب مجاہد کہنا پڑتا ہے ـ کو کچھ زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ بہت تھوڑے سے وسائل اور اپنی جان و تن لے کر دشمن کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
۵۔ اقوام متحدہ کا کردار یہاں امریکی یا اسرائیلی وزارت خارجہ کی حد سے آگے نہیں بڑھتا اور اس صورت حال میں یمن کے لئے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گرفتھس (Martin Griffiths) کا کردار حقیقتا عبرت آموز ہے۔ گرفتھس شدید جنگ کے دوران یمنیوں کو امن منصوبہ پیش کرنے کے بہانے دارالحکومت صنعا پہنچے تو اپنا قانونی فرض نبھانے اور یمنیوں کی جان و مال کے تحفظ کی بات کرنے کی بجائے انصار اللہ کو ہتھیار ڈالنے کی تجویز پیش کردی اور ساتھ ہی اپنی اس تجویز کو بڑے فخر سے “جامع سیاسی حکمت عملی کی تلاش” کا نام دیا۔ یہ غیر معمولی بات بھی نہیں ہے کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین اصلی اراکین “امریکہ، برطانیہ اور فرانس” کی کمان میں الحدیدہ پر جنگ اور بمباری ہورہی ہے؛ تو ان کے بھیجے ہوئے ایلچی کو بھی کچھ کردار ادا کرنا چاہئے چنانچہ گریفتھس نے ان کی پیشقدمی کا راستہ ہموار کرنے کی غرص سے انصار اللہ کے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چنانچہ انصار اللہ نے جارحین کے ایلچی کو “سعودی ڈاکیہ” کا لقب دیا اور موقف اپنایا کہ وہ ایک بےاختیار شخص ہے؛ جیسا کہ یمن کے مظلوم عوام پر سلامتی کونسل کے رکن ممالک اور ان کے غلاموں کا حملہ بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے گا۔ جیسا کہ اسی طرح کے اقدامات قبل ازیں حزب اللہ لبنان کے خلاف بھی آزمائے گئے ہیں اور شکست کھا چکے ہیں جبکہ لبنان کی آبادی اور حزب اللہ کی فوج کی نسبت یمن کی آبادی اور انصار اللہ کی افواج کئی گنا زیادہ ہیں اور یمن کی حکومت میں انصار اللہ کے کردار لبنانی حکومت میں حزب اللہ کے کردار سے کئی گنا زیادہ ہے اور انصار اللہ کی پوزیشن بہت مستحکم ہے۔
مستقبل اللہ کے مددگاروں (انصار اللہ) کا ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا: اگر تم میری مدد کرو تو میں تمہاری مدد کروں گا اور تمہارے قدم ثابت اور مستحکم کروں گا۔
بشکریہ خیبر ویب گاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲