جاثیہ نیوز کے مطابق، امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھرنائورت (Heather Nauert) نے ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا: وہ لبنان، ترکی، اردن، کویت اور مصر کے دورے پر گئے ہیں اور ان کے اس دورے کا مقصد اسرائیل کے ساتھ امن و شانتی کی فضا ہموار کروانا ہے۔ اور میں واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ایک دوست کے مانند ہیں چونکہ ہمارے آپس میں بہت زیادہ مشترکہ مفادات پائے جاتے ہیں۔
ہیتھر نائورت نے سلامتی کونسل میں محمود عباس کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم کوشش کر رہے ہیں کہ فلسطینی عہدیداروں اور اسرائیلی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کی فضا ہموار کریں مگر ان دونوں فریقوں کا کسی مثبت نتیجہ تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آخرکار ان دونوں فریقوں کو کسی ایک نکتے پر متفق ہونا ہی پڑے گا اس لیے کہ وہ مجبور ہیں آپس میں متفق ہو جائیں ہمیں امید ہے کہ محمود عباس دوبارہ سازباز مذاکرات کی میز پر دوبارہ واپس لوٹیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت ہر مقام پر صہیونی ریاست کی حمایت کا کھلے عام اعلان کر رہی ہے اور فلسطینی رہنماؤں کو سازباز مذاکرات کی میز پر لانے میں کوشاں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲