اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ایگزامنر کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق ریپبلکن رکن کانگریس ران پال کا کہنا تھا کہ حکومتی قرضہ، افراط زر اور عدم مساوات جیسے معاملات امریکی سماج میں تفریق اور آشفتگی پیدا کر ر ہےہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک بتدریج اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس وقت ویسی ہی صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ انیس سو نواسی میں سابق سویت یونین کو تھا اور میں صرف یہ آرزو کرسکتا ہوں کہ امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ بھی سویت یونین کی طرح آبرو مندانہ ہو۔
امریکا کی ریپبلیکن پارٹی کے لیبرٹیرین گروپ کے رہنما، ران پال کا کہنا تھا کہ امریکہ چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم ہوجائے گا، اس کی مالی پالسیوں میں تبدیلی آئے گی اور بیرونی دنیا پر امریکی حکمرانی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائےگا ۔
را ن پال نے امریکی حمکرانی اور تسلط کے خاتمے کی بات ایسے وقت میں کہی ہے جب تازہ ترین سروے رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ پینسٹھ فی صد امریکی شہری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے سخت نالاں ہیں جو کسی بھی امریکی صدر کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے اب تک کی سب سے نچلی سطح ہے۔
دسمبر دوہزار سترہ میں گیلپ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کرائے جانے والے سروے کے مطابق امریکی صدر کی مقبولیت میں اکتالیس فیصد کی کمی ہوئی ہے اور ان کی مقبولیت میں کمی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ادھر وال اسٹریٹ جرنل اور این بی سی نیوز کی جانب سے کرائے جانے والے جائزوں کے مطابق زیادہ تر امریکی شہریوں نے ٹرمپ کا مواخذہ کیے جانے کی توقع ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ امیگریشن قوانین اور نسل پرست گروہوں کی حمایت کے باعث انہیں امریکہ بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ قومی سلامتی سے متعلق امریکی صدر کی نئی اسٹریٹیجی کی بھی امریکہ کے اندر شدید مخالفت کی جارہی ہے۔
امریکہ کی ایک تجزیاتی ویب سائٹ لو بلاگ کے مطابق مشرق وسطی اور بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر کی قومی پالیسی سراسر غلط ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی حالیہ قرار داد مشرق وسطی میں امریکی پالیسیوں کی ناکامی اور تنہائی کا ثبوت ہے۔
.......
/169