24 اکتوبر 2017 - 18:53

پاکستان میں شیعہ مسلمان نوجوانوں کی گمشدگیوں کے خلاف "جیل بھرو تحریک" اپنے حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

اہل نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان میں شیعہ مسلمان نوجوانوں کی گمشدگیوں کے خلاف "جیل بھرو تحریک" اپنے حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

صدر پاک سرزمین پارٹی انیس قائم خانی نے بھی بغدادی تھانہ میں گرفتاری دینے والے شیعہ عالم دین علامہ حسن ظفر نقوی سے ملاقات کی۔

اس دوران وائس چیئرمین پی ایس پی وسیم افتاب، سی ای سی ممبر محمد رضا اور دیگر بھی موجود تھے۔

انچولی میں شیعہ  مسنگ پرسنز کی رہائی کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ سے علامہ احمد اقبال، علامہ حسن ظفر نقوی و  دیگر علمائے کرام نے پریس کانفرنس کے دوران خطاب کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں شیعہ مسلمان نوجوانوں کی گمشدگیوں کے خلاف جیل بھرو تحریک اب تیسرے اور حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ ان گمشدگیوں کے خلاف خود سے گرفتاری پیش کرنے والے معروف مذہبی رہنما علامہ حسن ظفر نقوی نے کراچی کے بغدادی تھانے میں بھوک ہڑتال بھی شروع کر دی ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے ذرائع کے مطابق جیل بھرو تحریک کے دوران خود سے گرفتاری پیش کرنے والے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما علامہ حسن ظفرنقوی نے کراچی کے بغدادی تھانے میں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے جس کی وجہ سے ان کی جسمانی حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔

علامہ حسن ظفر نقوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جب تک اغوا کئے گئے شیعہ نوجوانوں کو رہا نہیں کردیا جاتا اس وقت تک بھوک ہڑتال جاری رہےگی۔

کراچی میں ہی نمائش کے علاقے میں بھی لوگوں نے ایک کیمپ لگا کر بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

اس درمیان لاپتہ نوجوانوں کے اہل خانہ نے علامہ حسن ظفرنقوی سے درخواست کی ہے کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور لاپتہ نوجوانوں کے اہل خانہ کو جیل بھرو تحریک کا حصہ بننے کا موقع دیں۔

دریں اثنا جیل بھرو تحریک کے نتیجے میں اب  تک سات لاپتہ شیعہ نوجوانوں کو رہا کیا جا چکا ہے اور وہ اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲