اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم: انجینئر حسین موسوی
عام طور پر امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے جس سے تاثر ابھرتا ہے جیسے وہ ایک کمزور شخصیت کے مالک تھے، لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ امام سجاد (ع) کربلا کے بعد کوفہ اور شام اور اس کے بعد مدینہ کی زندگی میں اپنے والد کی طرح باطل سے ٹکرانے والے ایک شجاع شخصیت کے مالک تھے۔ انکی شجاعت کے چند نمونے پیش خدمت ہیں:
كوفہ ميں:
اسيروں كا قافلہ كوفہ پہنچا _ جب لوگ جناب زينب (ع) اور ان كى بہن ام كلثوم(ع) كے خطبوں سے پشيمان ہو كر رونے لگے تو امام زين العابدين (ع) نے اشارہ كيا كہ مجمع خاموش ہوجائے پھر پروردگار كى حمد و ثنا اور پيغمبر(ص) پر درود و سلام كے بعد آپ(ع) نے فرمايا:
'' اے لوگو ميں على بن الحسين (ع) ہوں، ميں اس كا فرزند ہوں كہ جس كو فرات كے كنارے بغير اس كے كہ انہوں نے كسى كا خون بہايا ہو يا كسى كا حق ان كى گردن پر ہو، ذبح كرديا گيا_ ميں اس كا فرزند ہوں جس كا مال شہادت كے بعد لوٹ ليا گيا اور جس كےخاندان كو اسير بنا كر يہاں لايا گيا_ لوگو كيا تمہيں ياد ہے كہ تم نے ميرے باپ كو خط لكھ كر كوفہ بلايا اور جب وہ تمہارى طرف آئے تو تم نے ان كو قتل كرديا؟ قيامت كے دن پيغمبر اكرم (ص) كے سامنے كس منہ سے جاؤگے؟ جب وہ تم سے فرمائيں گے كہ '' كيا تم نے ميرے خاندان كو قتل كرديا اور ميرى حرمت كى رعايت نہيں كى لہذا تم ميرى امت ميں سے نہيں ہو''
حضرت امام زين العابدين (ع) كى تقرير نے طوفان كى طرح لوگوں كو ہلا كر ركھ ديا_ ہر طرف سے گريہ و زارى كى آوازيں آنے لگيں، لوگ ايك دوسرے كو ملامت كرنے لگے كہ تم ہلاك اور بدبخت ہوگئے اور حالت يہ ہے كہ تم كو خود ہى نہيں معلوم_
امام حسين (ع) كے اہل حرم كو ابن زياد كے دربار ميں لے جايا گيا اور جب ابن زياداور امام زين العابدين (ع)كے درميان گفتگو ہوئي تو آپ(ع) نے نہايت يقين اور شجاعت كے ساتھ ہر موقع پر نہايت دنداں شكن جواب ديا جس سے ابن زياد ايسا غضب ناك ہوا كہ اس نے امام (ع) كے قتل كا حكم ديديا_
اس موقع پر جناب زينب سلام اللہ عليہا نے اعتراض كيا اور فرمايا كہ :'' اگر تم على ابن الحسين (ع) كو قتل كرنا چاہتے ہو تو ان كے ساتھ مجھے بھى قتل كردو''_ امام (ع) نے اپنى پھوپھى سے فرمايا:''آپ كچھ نہ كہيں ميں خود اس كا جواب دے رہا ہوں''_ اس كے بعد آپ(ع) نے ابن زياد كى طرف رُخ كيا اور فرمايا:'' اے زياد كے بيٹے كيا تم مجھے قتل كرنے كى دھمكى دے رہے ہو كيا تم يہ نہيں جانتے كہ قتل ہوجانا ہمارى عادت اور شہادت ہمارى كرامت ہے؟
شام ميں:
ايك ہى رسن ميں اہل بيت (ع) كے چند دوسرے افراد كے ساتھ امام (ع) كو بھى باندھا گيا تھا اسى حالت ميں امام كو شام ميں يزيد كے دربار ميں لے جايا گيا_ امام (ع) نے نہايت شہامت اور دليرى كے ساتھ يزيد سے خطاب فرمايا: اے يزيد اگر پيغمبر(ص) مجھ كو اس حالت ميں رسن بستہ ديكھ ليں تو، تو ان كے بارے ميں كيا خيال كرتا ہے؟ (وہ كيا كہيں گے)۔
امام زين العابدين (ع)كے اس چھوٹے سے جملہ نے حاضرين پر اتنا اثر كيا كہ سب رونے لگے _ امام (ع) نے جب يزيد سے گفتگو كى تو ايك نشست ميں اس نے قتل كى دھمكى دي_ امام (ع) نے اس كے جواب ميں فرمايا: اسيرى سے آزاد ہونے والے بنى اميہ جيسے كبھى بھى قتل انبياء و اوصياء كا حكم نہيں دے سكتے مگر يہ كہ اسلام سے خارج ہوجائيں اور اگر تم ايسا ارادہ ركھتے ہو تو كسى صاحب اطمينان شخص كو ميرے پاس بھيجو تا كہ ميں اس سے وصيت كردوں اور اہل حرم كو اس كے سپرد كردوں _
ايك دن شام كى جامع مسجد ميں يزيد نے ايك اہم نشست كا انتظام كيا اور خطيب سے كہا كہ منبر پر جاكر زين العابدين (ع) كے سامنے اميرالمؤمنين (ع) اور امام حسين _كو برا بھلا كہے اس كرايہ كے خطيب نے ايسا ہى كيا_
امام سجاد(ع) نے بلند آواز ميں فرمايا: '' وائے ہو تجھ پر اے خطيب تونے خالق كى ناراضگى كے بدلے مخلوق ( يزيد) كى خوشنودى خريدى اور اس طرح تم دوزخ ميں اپنا ٹھكانہ بنا رہے ہو_
پھر يزيد كى طرف مخاطب ہوئے اور فرمايا ''تو مجھے بھى اسى لكڑى ( منبر) پر جانے دے اور ايسى بات كہنے دے جس سے ميں خدا كو خوش كروں اور وہ حاضرين كے لئے اجر و ثواب كا باعث ہے''_ يزيد نے پہلے تو اجازت نہيں دى ليكن لوگوں كے اصرار كے جواب ميں بولا كہ '' اگر يہ منبر پر جائيں گے تو مجھ كو اور خاندان ابوسفيان كو ذليل كئے بغير منبر سے نيچے نہيں اتريں گے'' لوگوں نے كہا كہ :'' يہ كيا كرسكتے ہيں؟ يزيد نے كہا كہ '' يہ وہ خاندان ہے جس نے علم ودانش كو بچپنے سے دودھ كے ساتھ پيا ہے''_ لوگوں نے بہت اصرار كيا تو يزيد نے مجبوراً اجازت دے دي، امام(ع) منبر پر تشريف لے گئے اور پيغمبر(ص) پر درود و سلام بھيجنے كے بعد فرمايا:
'' اے لوگو خدا نے ہم كو علم، بردباري، سخاوت، فصاحت، دليرى اور مؤمنين كے دلوں ميں ہمارى دوستى عطا كى ہے ... پيغمبر(ص) ہم ميں سے ہيں_ اس امت كے صديق حضرت اميرالمؤمنين علي(ع) ہم ميں سے ہيں،جعفر طيّار ہم ميں سے ہيں، حمزہ سيدالشہداء ہم ميں سے ہيں، امام حسن اور امام حسين عليھما السلام پيغمبر(ص) كے دونوں نواسے ہم ميں سے ہيں_
ميں فرزند مكہ و منى ، فرزند زمزم و صفا ہوں، ميں اس كا بيٹا ہوں جس نے حجر اسود كو عبا ميں ركھ كر اٹھايا_
ميں اس بہترين خلائق شخص كا بيٹا ہوں جس نے احرام باندھا، طواف و سعى كي، حج بجالايا ... ميں خديجة الكبرى كا بيٹا ہو، ميں فاطمہ زہراء (ع) كا بيٹا ہو، ميں اس كا بيٹا ہوں جو اپنے خون ميں غوطہ زن ہوا، ميں اس حسين(ع) كا بيٹا ہوں جس كو كربلا ميں قتل كر ڈالا گيا''_
لوگوں ميں كھلبلى مچ گئي اور امام (ع) كى طرف ديكھ رہے تھے_ آپ(ع) ہر جملہ كے ساتھ بنى اميہ كى حقيقت سے پردہ اٹھاتے جا رہے تھے اور اموى گروہ كى كثيف ماہيت كو آشكار كرتے اور اپنے خاندان كى عظمت اور شہادت حسين _كى زيادہ سے زيادہ قدر و قيمت لوگوں كے سامنے نماياں كرتے جا رہے تھے، رفتہ رفتہ لوگوں كى آنكھيں آنسووںسے ڈبڈبا گئيں، گريہ گلو گير ہوگيا_ پھر ہر گوشہ سے بے تابانہ رونے كى آواز بلند ہوئي_
يزيد كو ڈر لگنے لگا اور امام (ع) كى تقرير كو روكنے كے لئے اس نے مؤذن كو آذان دينے كا حكم ديا، مؤذن جب '' اشہد انّ محمداً رسول اللہ'' پر پہنچا تو آپ نے عمامہ سر سے اتارليا اور فرمايا:
'' اے مؤذن اسى محمد(ص) كى قسم ذرا ٹھہر جا'' _ پھر يزيد كى طرح رخ كركے فرمايا:'' اے يزيد يہ رسول اكرم(ص) ميرے جد ہيں يا تيرے؟ اگر تم كہو كہ تمہارے جد ہيں تو سب جانتے ہيں كہ يہ جھوٹ ہے اور اگر تم يہ كہتے ہو كہ ميرے جد ہيں تو پھر ان كى عترت كو تم نے كيوں قتل كيا ان كے اموال كو كيوں تاراج كيا اور ان كے خاندان كو تم نے كيوں اسير كرليا؟
اے يزيد تو ان تمام افعال كے باوجود محمد(ص) كو پيغمبر خدا جانتا ہے اور قبلہ كى طرف رخ كركے كھڑا ہوتا ہے، نماز پڑھتا ہے، وائے ہو تجھ پر كہ ميرے جد و پدر قيامت ميں تيرا گريبان پكڑيںگے''_
يزيد نے مؤذن كو حكم ديا كہ نماز كے لئے اقامت كہے، ليكن لوگ بہت ناراض تھے يہاں تك كہ كچھ لوگوں نے نماز بھى نہيں پڑھى اور مسجد سے نكل گئے_
شام ميں امام (ع) كى تقريريں اس بات كا باعث بنى كہ يزيد قتل امام (ع) كا قصد ركھنے كے باوجود اس بات پر مجبور ہوا كہ آپ(ع) كو اور تمام اہل بيت(ع) كو مدينہ واپس كردے_
مدینہ میں:
اموی بادشاہ عبدالملك بڑى سختى سے امام زين العابدين كى نگرانى كرتا تھا اور اس كوشش ميں تھا كہ آپ(ع) كے خلاف كسى بھى طريقہ سے كوئي بہانہ ہاتھ آجائے تو وہ آپ(ع) پر سخت گيرى كرے يا آپ كى توہين كرے_ اس كو جب يہ اطلاع ملى كہ امام زين العابدين (ع) نے اپنى آزاد كردہ كنيز سے عقد كر ليا ہے تو اس نے ايك خط ميں اس كام پر آپ كى شماتت كي_ اس نے چاہا كہ اس طرح وہ حضرت كو يہ سمجھا دے كہ ہم آپ(ع) كے تمام امور حتى كہ داخلى اور ذاتى امور سے بھىباخبر ہيں_ اور اس نے اپنى قرابت دارى كو بھى ياد دلايا، تو امام (ع) نے جواب ميں آئين اسلام كو اس سلسلہ ميں ياد دلاتے ہوئے فرمايا: كہ مسلمان ہوجانا اور خدا پر ايمان لانا ہميشہ دوسرے امتيازات كو ختم كرديتا ہے، امام(ع) نے طنز كے ذريعہ اس كے آبا و اجداد كى گذشتہ جہالت پر ( اور شايد اس كى موجودہ جہالت حالت پر ) سرزنش كى اور فرمايا:
فلا لوم على امرئ: مسلم: انّما اللّومُ لوم الجاہلية'' يعنى مسلمان ميں كوئي پستى اور ذلت نہيں ہے بلكہ صرف جاہليت كى فرمايگى ميں پستى ہے_
زہری کو خط:
یہ شخص پہلے امام علیہ السلام کی شاگردی میں تھا ، لیکن بعد میں اموی بادشاہت کی دربار سے وابسطہ ہوگیا۔ امام (ع) نے اس کو ایک سخط خط لکھا:
خط کی ابتدا ء ان الفاظ میں ہوتی ہے : ”کفانا اللّٰہ و ایاک من الفتن ورحمک من النار“ خدا وند عالم ہمیں اور تمھیں فتنوں سے محفوظ رکھے اور تم پر آتش جہنم سے رحم کرے ۔دوسرے فقرے میں صرف اس کو مورد خطاب قرار دیا ہے کیوں کہ فتنوں سے دو چار ہونا سب کے لئے ہے اور ممکن ہے خود امام سجاد علیہ السلام بھی کسی اعتبار سے دوچار ہوں لیکن فتنہ میں غرق ہونا امام سجاد علیہ السلام کے لئے ناممکن ہے اس کے بر خلاف زہری فتنہ سے دو چار بلکہ فتنہ میں غرق ہے۔دوسری طرف آتش جہنم امام سجاد علیہ السلام کے قریب نہیں آسکتی لہٰذا حضرت (ع) اس کی نسبت محمد بن شہاب کی طرف دیتے ہیں خط کا آغاز ہی ایسے لب و لہجہ میں کیا جانا جو نہ صرف مخالفانہ بلکہ تحقیر آمیز بھی ہو زہری کے تئیں حضرت (ع)کے طرز عمل کی خود دلیل ہے ۔
اس کے بعد فرماتے ہیں : ” فقد اصبحت بحال ینبغی لمن عرفک بھا ان یرحمک “تم اس منزل پر کھڑے ہو کہ جو شخص بھی تمھاری حالت کو سمجھ لے وہ تمھارے حال زار پر رحم کرے ۔غور فرمایئے کہ یہ کس شخصیت سے خطاب ہے ؟
یہ ایک ایسے شخص سے خطاب ہے جس پر لوگ غبطہ کرتے ہیں جس کا دربار حکومت میں بزرگ علمائے دین میں شمار ہوتا ہے ۔پھر بھی امام علیہ السلام اس کو اس قدر حقیر و ناتواں خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں : تو اس قابل ہے کہ جو لوگ تجھے اس حال میں دیکھیں ،تیرے حال پر رحم کریں ۔
اس کے بعد اس کو مختلف الٰہی نعمتوں سے نوازے جانے اور خدا کی جانب سے ہر طرح کی حجتیں تمام ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے امام (ع) کہتے ہیں ” ان تمام نعمتوں کے باوجود جو تجھے خدا کی جانب سے ملی ہیں کیا تو خدا کے حضور کہہ سکتا ہے کہ کسی طرح تونے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا ؟ یا نہیں “ پھر قرآن کی چند آیتوں کا ذکر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں : خدا وند عالم تیرے قصور و گناہ سے ہر گز راضی نہیں ہو سکتا کیوں کہ خدا وند عالم نے علماء پر فرض کیا ہے کہ وہ حقائق کو عوام الناس کے سامنے بیان کریں اور کتمان حق سے کام نہ لیں :” لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ“
اس تمہید کے بعد جس وقت امام خط کے اصل مطلب پر آتے ہیں تو محمد بن شہاب کے حق میں خط کا انداز اور بھی سخت ہو جاتا ہے :۔
”واعلم ان ادنی ما کتمت واخف ما احتملت ان انست و حشہ الظالم و سھلت لہ طریق العزبد نوک منہ حین دنوت و اجابتک لہ حین دعیت “
یاد رکھ! وہ معمولی ترین چیز جس کے سلسلہ میں تونے کتمان سے کام لیا ہے اور وہ سبک ترین بات جو تونے برداشت کی ہے یہ ہے کہ ظالموں کے لئے جو چیز و حشت ناک تھی اس کو تونے راحت و انسیت کا سامان بناکر ان کے لئے گمراہی کے راستے مزید ہموار کر دیئے ۔ اور یہ کام تونے محض ان کا تقرب حاصل ہوجانے کے لئے کیا چنانچہ انھوں نے تجھ کو جب بھی (کسی امر کی) دعوت دی تو تیار ہوگیا ۔
یہاں حضرت (ع) اس کی دربار حکومت و خلافت کے ساتھ قربت و وابستگی کو اس طرح اس کے سامنے پیش کرتے ہیں گویا سر پہ تازیانہ مار رہے ہوں۔:
” ․․․․ انک اخذ ت مالیس لک ممن اعطاک “
ان لوگوں سے جو کچھ تجھ کو حاصل ہوا وہ تیرا حق نہ تھا پھر بھی تونے لے لیا۔
” ودنوت ممن لم یرد علی احد حقاو لم ترد باطلاحین ادناک “
اور توایک ایسے شخص کے قریب ہو گیا جس نے کسی کا کوئی حق واپس نہ کی ( یعنی خلیفہ ستمگر) اور جب اس نے تجھ کو اپنی قربت میں جگہ دی تو تونے ایک بھی باطل اس سے دور نہ کیا ۔یعنی تو بہانہ نہیں بنا سکتا کہ میں اس لئے قریب ہوا تھا کہ احقاق حق اور البطال باطل کر سکوں کیوں کہ تو جس وقت سے اس کے ساتھ ہے کسی بھی امر باطل کا خاتمہ نہ کر سکا جب کہ اس کادربار سراسر باطل سے معمور ہے ۔
” واحببت من عاد اللّٰہ “ تونے دشمن خدا کو اپنی دوستی کے لئے منتخب کر لیا ۔ اس تہدید نامہ میں امام (ع) کا وہ جملہ جو ذہن کو سب سے زیادہ جھنجھوڑتا ہے یہ ہے کہ امام فرماتے ہیں :۔
”او لیس بدعائہ ایاک ----حین دعاک ---- جعلوک قطباً اداروابک رحی مظالمھم وجسر ایعبرون علیہ الیٰ بلا یا ھم و سلما الیٰ ضلالتھم د اعیا الیٰ غیھم سالکا سبیلھم یدخلون بک الشک علی العلماء و یقتا دون بک قلوب الجھال الیھم “
آیا ایسا نہیں ہے اور تو نہیں جانتا کہ انھوں نے جب تجھ کو خود سے قریب کر لیا تو تیرے وجود کو ایک ایسا قطب اور محور بنا دیا جس کے گرد مظالم کی چکی گردش کرتی رہے اور تجھ کو ایک ایسا پل قرار دے دیا جس سے ان کی تمام غلط کاریوں کے کاردان عبور کرتے رہتے ہیں ۔انھوں نے ایک ایسی سیڑھی تعمیر کر لی ہے جو انھیں ان کی ذلت و گمراہی تک پہنچنے میں سہارا دیتی ہے تو ان کی گمراہیوں کی طرف دعوت دینے والا اور ان ہی کی راہ پر چلنے والا بن گیا انھوں نے تیرے ذریعہ علماء میں شک و شبہ کی فضا پیدا کر دی اور جاہلوں کے قلوب اپنی جانب جذب کرلئے ۔یعنی تو علما کے اندر یہ شک و شبہ پیدا کرنے کا سبب بنا کہ کیا حرج ہے کہ ہم بھی دربار حکومت سے وابستہ ہو جائیں ؟ بلکہ بعض اس دھوکے میں آبھی گئے ( اس کے علاوہ ) تو اس بات کا بھی سبب بنا کہ جہلاء بڑے اطمینان کے ساتھ خلفا ء کی طرف مائل اور ان میں جذب ہوگئے ۔اس کے بعد حضرت (ع) فرماتے ہیں:
” فلم یبلغ اخص و زرئھم ولا اقوی اعوانھم الا دون ما بلغت من اصلاح فسادھم ․․․․“
ان کے نزدیک ترین وزراء اور زبردست ترین احباب بھی ان کی اس طرح مدد نہ کر سکے جس طرح تونے ان کی برئیوں کو عوام کی نظروں میں اچھا بناکر پیش کرکے مدد کی ہے ۔
یہ خط لب ولہجہ کے اعتبار سے نہایت ہی سخت اور مضامین کے لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔امام زین العابدین علیہ السلام نے اس خط کے ذریعہ سیاسی قدرت و اقتدار اور اجتماعی زمام و اختیار کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی علمی و فکری اقتدار اور زمامداری کی لہر کو ذلیل و رسوا کر دیا اور وہ لوگ جو دربار کے ساتھ روابط استوار کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے ان کی نیندیں اڑگئیں وہ معاشرہ میں ایک سوال بن کر رہ گئے ایک ایسا سوال جو ہمیشہ کے لئے اسلامی در و دیوار پہ ثبت ہو کر رہ گیا اس وقت کا معاشرہ بھی اس سوال سے دو چار تھا اور تاریخ کے ہر دور میں یہ سوال اپنی جگہ بر قرار رہے گا۔
السلام علی الحسین
و علی علی بن الحسین
و علی اولاد الحسین
و علی اصحاب الحسین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲