10 اکتوبر 2016 - 10:56
ہمارا مروّجہ انداز ِخطابت اور زوالِ ملت

بہرحال یہ بانیان مجالس ہیں کہ وہ کس قسم کے خطباء کو دعوت سخن دیتے ہیں اور کس طرح کی عزاداری برپا کرنا چاہتے ہیں؛ اگر اُن کی برپا کردہ مجالس عزا سے دین خدا زندہ ہوتا ہے اور پیغام کربلا کو فروغ ملتا ہے تو وہ ائمہ طاہرین ؑ کے فرامین کے مطابق عظیم اجر وثواب کے مستحق ہیں

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم:  سید رمیز الحسن موسوی

جب کسی مملکت اور معاشرے میں جاگیردارانہ اور استبدادی نظام رائج ہو جائے تو  اس معاشرے میں قدر ومنزلت کے ایسے معیارات پروان چڑھنے لگتے ہیں کہ جو  جاگیرداروں اور آمروں کے مزاج کے مطابق ہوتے ہیں ،ایسے معاشرے میں اُن لوگوں کی قدردانی ہوتی ہے جو امیروں اور جاگیرداروں کو خوش رکھ سکیں، اس کی بہت سی ترکیبیں ہیں جن میں سے ایک ترکیب ،گفتگو کو دل آویز او رتقریر کو مؤثر بنانا ہے؛ لیکن چونکہ علمی معارف اور مباحث سے اُمراء اور آمرخوش نہیں ہوتے؛ اس لئے جاگیرداری نظام میں جکڑے ہوئے معاشروں میں علمی گفتگو اور بحث مباحثہ کوئی اچھا مشغلہ نہیں بن سکتا ہے۔
پھر سب سے بڑی بات یہ کہ خوبصورت الفاظ خود سحر اور جادو کا سااثر رکھتے ہیں ،وہ نہ صرف سننے والے کو بلکہ بولنے والے کو بھی لطف اندوز کرتے ہیں۔مقفیٰ نثر ،مترنّم اشعار، فقرے بازی، نکتہ سنجی ،چٹکلے اور طرح طرح کی عبارت آرائی، ایک ایسانشہ ہے جس کی عادت پڑ جائے تو مشکل سے جان چھوٹتی ہے،ایسے میں ہر خطیب کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خوبصورت الفاظ تلاش کیے جائیں، خواہ معانی جیسے بھی ہوں۔ لہذا معنی ٰ اور موضوع کی صحت اور اہمیت کی کوئی پروا نہیں کی جاتی ۔
 
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ الفاظ کا حُسن اور خطابت کا زور، علم و معرفت کے بیان پر غالب آ جاتا ہے اور قوم پر ایک طویل سرور اور نشے کی حالت طاری ہو جاتی ہے ۔ایسی صورتحال میں خطابت افیون بن جاتی ہے اور اِس افیون کا نشہ بعض اوقات صدیوں تک باقی رہتا ہے ۔
بدقسمتی سے اِس وقت ہماری قوم پر بھی کچھ ایسی ہی کیفیت طاری ہے۔ ہماری قوم الفاظ کے حسن ، لفاظی کے نشے اور خطابت کے جادو سے کچھ ایسی سحر زدہ اور نشے میں مست ہے کہ اب علمی باتیں اور دینی معارف پر مبنی گفتگو قوم کے ہر چھوٹے بڑے کو بُری لگتی ہے ۔ ائمہ اہل بیت  علیہم السلام کی جانب سےغم حسینؑ اور ذکر اہل بیتؑ کی جو تاکید کی گئی ہے  وہ  دلوں کو زندہ کرنے اور قلوب کو معنویت عطا کرنے کے لئے تھی۔  
درحقیقت  ذکر حسین ؑانسانوں کو متحرک کرتا ہے اور وہ اُسوہ ٔحسینی اپنا کر ظلم وستم کے مقابلے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں؛ لیکن خطابت اور لفاظی کے سحر نے اسے نشہ بنا دیا ہے اور  کچھ تقاریر ، قوم کے لئے افیون کا کام کرنے لگی ہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نجات کا سفینہ ہیں اور آپؑ  کا ذکر انسانیت کی فلاح  کا ذریعہ ہے۔ لیکن جب اسے لفاظی ،مقفیٰ عبارتوں، دھواں دھار تقریروں ، چٹکلوں اور فقرے بازیوں کی نذر کر دیا جائے تو  یہ بھی سُننے والوں کو  غفلت کی نیند سُلا  دیتا ہے۔
ایک ممتاز محقق لکھتے ہیں :
"مغربی مؤرخین گبن سے لے کر مائیکل گرانٹ اور جونز تک متفق ہیں کہ مملکت روم کے زوال میں نظام تعلیم ،علوم سے بے اعتنائی اور شوقِ خطابت کا بہت بڑا کردار ہے ،خالص ادبی تربیت اور شوق خطابت کا نتیجہ یہ ہوا  کہ اہل روم عقلی علوم کی طرف توجہ نہ دے سکے اورکوئی بڑا فلسفی ،سیاستدان ،ماہر اقتصادیات یا سائنسدان پیدا نہ ہو سکا"۔
بر صغیر پاک وہند میں بھی انگریز استبداد نے آمریت ،جاگیرداری اور سرمایہ داری کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں قوم کے مزاج میں تملق گوئی اور خوشامدپسندی پروان چڑھی ۔جس کے اثرات ہمارے مذہبی مراسم اور عبادات پر بھی اثرانداز ہوئے اور ہم دین ومذہب میں بھی  عقلانیت کی بجائے جذباتی پن اور رومانیت کی طرف مائل ہو گئے،حتی ٰ عزاداری امام حسین علیہ السلام کہ جو  ہمارے نزدیک ایک تحرک آفرین سیاسی اورعبادی عمل ہے ،بھی اسی جذباتیت اور رومانیت کی نذر ہو کر رہ گیا ۔
برصغیر میں شروع ہی سےعزاداری کو راجوں ،نوابوں اور اعلیٰ حکام کی سرپرستی حاصل تھی اور علمائے دین کو ہمیشہ اس سے دور رکھا گیا جس کی وجہ سے ذکر حسین ؑ کا علمی اور عقلی  پہلو جذبات  واحساسات میں گم ہو کر رہ گیا، یہاں پیشہ ور مقررین ،خطبا ء، ذاکرین اور نوحہ خوانوں کی لفاظی ،مقفیٰ عبارتوں اور غنا آلود مرثیوں نے کربلا کے ذکر سے کردار کی تعمیر کی بجائے اُن کی تفنّن طبع کا سامان مہیا کیا ہے۔
بر صغیر کے علاوہ دیگر ممالک  کے لوگوں اور دوسری اقوام وملل نے بھی ذکر حسین  ؑاور عزاداری امام مظلومؑ  بر پا کی ہے ؛ لیکن وہاں امراءاور سرمایہ داروں کی بجائے علمائے دین نے اس کی سرپرستی کی ہے، جس کی وجہ سے اس کا عقلی اور دینی پہلو ،اس کے جذباتی اور عاطفی پہلو پر غالب رہا ہے  ، وہاں  ذکر حسین ؑ، ظلم وستم کے خلاف ایک آواز میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظالم وستم گر شہنشاہوں کے ایوان عزاداروں کی فریادوں اور حسینیت کا پرچار کرنے والے خطیبوں کی آوازوں سے لرزنے لگے اسی ذکر حسین ؑنے ایرانی قوم کو ڈھائی ہزار سالہ ستم شاہی نظام سے نجات دلا دی اور یہی  ذکر حسین ؑ حزب  اللہ( لبنان)  کے مجاہدین کو صیہونی ظالموں کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بنا چکا ہے ۔
لیکن ہمارے ہاں یہی ذکر حسین ؑ ہماری جذباتی خطابت، لفاظی اور نکتہ بازیوں کی وجہ سے بیدای ملت کی بجائے اُسے خواب غفلت میں لے جانے  کا سبب بن گیاہے ۔ محرم الحرام جیسا حماسہ آفرین مہینہ ہر سال آتا ہے؛لیکن اس میں امام حسین علیہ السلام کے ظلم ستیز  آفاقی اور الہٰی کردار کے مطالعے کی بجائے ہم لوگ فقرہ بازی پر مبنی خطابت نیز موسیقی اور غنا بھری آوازوں میں قصیدے، نوحے اور مرثیے سننے کے منتظر ہوتے ہیں۔
کیونکہ کوئی  عالم دین ،دینی معارف اور قرآن اور اہل بیت ؑ کے علوم کا پرچار کرنے کی سعی کرتا بھی ہے تو اُسے سننے والے بہت کم ملتے ہیں؛مگر جہاں لفاظی اور عبارت آرائی کا مظاہرہ کرنے والا مقرر اپنی خطابت کا جادو جگا رہا ہوتا ہے وہاں عوام کا رش لگا ہوتا ہے اور یہی مجلس،مقبول مجلس سمجھی جاتی ہے۔ زوال ملت کے اسباب کا مطالعہ کرنے والوں کو قوم کے زوال کے اس پہلو پر ضرور توجہ دینی چاہیےکیونکہ جب تک محبانِ حسین ؑ کے جذبات سے کھیلنے والے مقررین موجود ہیں، اس قوم میں حسینی روح پھونکنا ناممکن ہے اور عزاداری امام مظلوم کے ذریعے ظلم وستم کے ایوان گرانے محال ہیں۔
اس سلسلے  میں سب سے اہم کردار بانیان مجالس کا ہے کہ وہ ان مجالس  عزا کو کس نیت سے برپا کرتے ہیں، کیا وہ محض ایک رسم کے طور پر عزاداری مناناچاہتے ہیں  اور ایک عادت پوری کرنا چاہتے ہیں؟یا عزاداری مظلوم کربلا کے ذریعے کربلا کے مظلوموں کا پیغام زندہ کرنا چاہتے ہیں  اور اہل بیت اطہار ؑ کے فرمان کے مطابق "امر دین کا احیاء " کرنا چاہتے ہیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور قربانی دین خدا کے احیاء کے لئے تھی،اگر ہم بھی عزاداری امام مظلوم ؑ کے ذریعے اسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں معارف کربلا کو زندہ کرنا ہوگا اور ایسے خطباء اور ذاکرین کی خدمات حاصل کرناہوں گی جو اسی نیت اور مقصد کی خاطر منبر حسینی ؑ پر آتے ہیں اور اسے ایک الہٰی فریضہ سمجھتے ہیں ۔
دین خدا آج بھی مظلوم ہے ،اسلام آج بھی تنہا ہے ،قرآن آج بھی مہجور ہے ،اسے اگر زندہ کیا جاسکتا ہے اور تنہائی سے نکالاجاسکتا ہے تو فقط کربلا اور عاشورا کےہی ذریعے سے زندہ کیا جاسکتا ہے ،مگر وہ کربلا اور عاشورا جو ۶۱ ہجری میں سرزمین نینوا پر رونما ہوا تھا نہ وہ کربلا وعاشورا کہ جو ہم علاقائی رسم ورواج اور ثقافتوں کے ذریعے وجود میں لائے ہیں ۔وہ حقیقی کربلا ہےکہ جس میں اسلام زندہ ہوتا ہے ،اصول دین اور فروعات دین کی آبیاری ہوتی ہے ، ظلم وستم کی حوصلہ شکنی اور مظلوموں کی اشک شوئی ہوتی ہےاور جس میں خطباء، خطبات حسینی  ؑ کا پرچار کرتے ہیں نہ مظلومیت حسین ؑ کے ذریعے ہیں ۔بقول شاعر انقلاب جوش ملیح آبادیؒ :  ؎
سوچ تو اے ذاکرِ افسردہ طبع نرم خو                  آہ تو نیلام کرتا ہے شہیدوں کا لہو
تاجرانہ مشق ہے مجلس میں تیری ہاؤہو             فیس کا در یوزہ ہے منبر پر تیری گفتگو
بہرحال یہ بانیان مجالس ہیں کہ وہ کس قسم کے خطباء کو دعوت سخن دیتے ہیں اور کس طرح کی عزاداری برپا کرنا چاہتے ہیں؛ اگر اُن کی برپا کردہ مجالس عزا سے دین خدا زندہ ہوتا ہے اور پیغام کربلا کو فروغ ملتا ہے تو وہ ائمہ طاہرین ؑ کے فرامین کے مطابق عظیم اجر وثواب کے مستحق ہیں اور یقینا ً آخرت میں شفاعت حسین ؑ سے بہرہ مند ہوں گے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حسین ابن علی ؑ "سفینۃ النجات" ہیں اور آپ ؑ کا ذکر بھی مظلوم اقوام کے لئے سفینہ ٔ نجات ہے۔
الحمد للہ ! آج بہت سی مجالس عزا سفینہ ٔ نجات بن رہی ہیں اور لوگوں میں دینی شعور پیدا ہونے کی وجہ سے علمائے دین اور تفقہ فی الدین رکھنے والے خطباء کے ذریعے  یہی مجالس پیغام کربلا  کے فروغ کا باعث بن رہی ہیں اور ہم غفلت زدہ خطابت سے تحرک اور شعور پیدا کرنے والی خطابت کی طرف سفر شروع کرچکے ہیں۔
بشکریہ نور معرفت ،اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲