27 اپریل 2015 - 09:33
داعش کربلا تک پہنچنے کی جرائت نہیں رکھتا: کربلا کے گورنر

کربلا کے گورنر نے داعش کی جانب سے صوبہ کربلا میں داخلے کی کوشش پر مبنی بعض ذرائع ابلاغ کی خبروں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی سیکورٹی فورسز نے اس اقدام کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کر رکھے ہیں-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کربلا کے گورنر نے داعش کی جانب سے صوبہ کربلا میں داخلے کی کوشش پر مبنی بعض ذرائع ابلاغ کی خبروں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کی سیکورٹی فورسز نے اس اقدام کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کر رکھے ہیں-
موصولہ رپورٹ کے مطابق کربلا کے گورنر عقیل الطریحی نے مزید کہا ہے کہ داعش کے اندر کربلا میں داخل ہونے کی صلاحیت نہیں پائی جاتی ہے لیکن ذرائع ابلاغ اس خبر کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں- عقیل الطریحی نے مزید کہاکہ صوبہ کربلا کی اعلی سیکورٹی کمیٹی کے اراکین اس صوبے کی سیکورٹی کی صورتحال کے جائزے کے لئے مسلسل اجلاس بلاتے رہتے ہیں– انھوں نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار اور عوامی رضا کار کربلا کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں اور وہ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں-
دوسری جانب عراق کے کرستان کے علاقے کے سربراہ نے شمالی عراق میں واقع صوبہ نینوا میں دہشتگرد گروہ داعش کی موجودگی کو عراقی کردستان کے لئے ایک خطرہ قرار دیا ہے- عراقی کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی نے دہشتگرد گروہ داعش کے قبضے سے تقریبا پندرہ سے بیس مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرانے کے سلسلے میں پیشمرگہ فورس کی کامیابی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل میں دہشتگردوں کی موجودگی عراق کے کردستان کے علاقے کے لئے خطرہ ہے- مسعود بارزانی نے مزید کہا کہ موصل کی آزادی عراقی کردستان کے فائدے میں ہے اور اس علاقے اور مرکزی حکومت کی مشترکہ کمیٹیاں موصل کی آزادی کے لئے کئے جانے والے آپریشن میں پیشمرگہ فورس کے اہلکاروں کی شرکت کا جائزہ لے رہی ہیں- عراق کے نائب صدر نوری مالکی نے بھی کہا ہے کہ داعش کا دہشتگرد گروہ ، بعث پارٹی کے بچے کھچے عناصر اور قبائلی اختلافات کو ہوا دینے والے افراد ملت عراق پر کئے جانے والے مظالم میں ملوث ہیں- اس لئے موصل ، بغداد اور الانبار میں ان کے داخلے کی روک تھام ضروری ہے۔ نوری مالکی نے مزید کہا کہ عوامی رضاکار فورس اور داعش کے خلاف اس کے مواقف عراق اور عراقیوں کے لئے باعث افتخار ہیں کیونکہ انھوں نے دہشتگردوں کی حمایت سے متعلق عرب ممالک کی تمام سازشوں کو نقش بر آب کر دیا ہے اور وہ ملک کے مختلف علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے کوشاں ہیں- دریں اثناء عراق کے وزیر دفاع خالد العبیدی نے کہا ہے کہ صوبہ الانبار میں واقع علاقے ناظم الثرثار میں عراقی فوجیوں کو داعش کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جانے کی خبر درست نہیں ہے- واضح رہے کہ مقامی اور عرب ذرائع ابلاغ نے ہفتے کے دن اپنی رپورٹوں میں کہا تھا کہ دہشتگرد گروہ داعش نے شمالی فلوجہ میں واقع الثرثار میں دسیوں عراقی فوجیوں کا محاصرہ کر کے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے- عراق کے وزیر دفاع نے کہا ہےکہ داعش دہشت گرد گروہ نفسیاتی جنگ کے لئے افواہیں پھیلاتا ہے-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲