22 مارچ 2015 - 15:51
یمن میں امریکہ کا سفارت خانہ خالی

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ یمن میں سیکورٹی کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اس نے یمن سے اپنے تمام سفارتی عملے کو منتقل کر دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن میں اپنے تمام سفارت کاروں اور سفارتی عملے کو صنعا میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں کے بعد جن میں کم از کم ایک سو بیالیس افراد جاں بحق ہو گئے تھے، وہاں سے نکال لیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جیف راسکے نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ یہ فیصلہ یمن کے مستعفی صدرمنصور ہادی کی اطلاع میں لاکر کیا گیا ہے، کہا کہ امریکہ یمن میں دہشت گردانہ خطروں پر پوری نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکہ نے اسی طرح یمن سے اپنے تمام فوجیوں کو بھی باہر نکال لیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اتوار کے روز یمن کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس کر رہی ہے۔

اس درمیان امریکا کےایک سابق جنرل اوردفاعی امور کےتجزیہ نگار نےامریکا کےاس اقدام پر تنقید کی ہے-

امریکا کے ریٹائرڈ جنرل اور دفاعی تجزیہ نگار ریک فرانکونا کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے اس فیصلے کے ذریعے یمن کے زمینی علاقے میں اپنا اثرو رسوخ ختم کرلیا ہے -

مذکورہ امریکی ریٹائرڈ جنرل نے دعوی کیا کہ یمن اس وقت تقسیم کے دہانے پر ہے اور امریکا نے اپنی فوج اور سفارتکاروں کو نکال کر اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ پوری طرح ختم اوریمن میں اپنی آخری طاقت بھی کھو دی ہے-

واضح رہے کہ امریکا نے سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر عرب ملکوں کے ساتھ مل کر یمنی عوام کے انقلاب کو ناکام بنانےاور عوامی انقلابی کمیٹیوں پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے اپنے سفارتی عملے کے بیشتر افراد کو صنعا سے نکال لیاتھا جبکہ خلیج فارس کے عرب ملکوں نے اپنے سفارتخانےصنعا سے عدن منتقل کردئے تھے -

.....

/169