اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے نئے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے نئے احکامات جاری کرتے ہوئے شاہزادہ بندر بن سلطان کو سعودی عرب کی سیکورٹی کونسل کے سربراہ کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ان احکامات کی رو سے خالد بن بندر کو بھی سعودی عرب کی انٹلی جنس سروس کی سربراہی سے برطرف کرکے خالد بن علی بن عبداللہ الحمیدان کو ان کی جگہ سعودی خفیہ ادارے کا سربراہ بنادیا ہے ۔ خالد بن بندر سعودی عرب کی انٹلی جنس سروس کے سربراہ کے عہدے سے برطرف کئےجانے کے بعد نئے بادشاہ کے مشیر منتخب ہوئے ہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اسی طرح شیخ صالح آل الشیخ کو سعودی عرب کےمذہبی امور کا وزيربنایاہے ۔ جبکہ عدل الطریفی کو بھی اطلاعات و نشریات کا وزیر بنایا گیا ہے۔ ملک سلمان بن عبد العزیز نے اپنے نئے فرمان کے تحت مکے کے امیر شاہزادہ مشعل بن عبداللہ کو جو گذشتہ ہفتے انتقال کرجانے والے بادشاہ کے بیٹے تھے ان کے عہدے سے برطرف کرکے شاہزادہ خالد فیصل کو مکہ کا نیا امیر مقررکیا ہے۔ سعودی عرب کےبادشاہ نے ریاض اور اسی طرح القصیم کے امیر کو بھی ان کے عہدوں سے برطرف کرکے شاہزادہ فیصل بن بندر کو ریاض کا نیا امیر اور شاہزادہ فیصل بن مشعل کو القصیم کا نیا امیر بنایا ہے۔ اسی طرح تعلیم اور اعلی تعلیم کی وزراتوں کو ایک کردیاہے اور عزام الدخیل کو سعودی عرب کا نیا وزیرتعلیم مقرر کیاہے۔ سعودی فرمانروا سلمان بن عبد العزیز کے فرمان کے مطابق تعلیمی پالیسی کمیٹی اورعوامی رفاہی کونسل کو توڑ کر دو نئے ادارے، سیاسی اور سیکورٹی امور کی کونسل شاہزادہ محمد بن نائف کی سرپرستی میں تشکیل دی ہے ۔ انہوں نے اسی طرح اقتصادی امور کی ترقی کی بھی ایک کونسل تشکیل دی ہے۔
واضح رہے کہ شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں کے لئے بے چون وچرا حمایت کے نتیجے میں سعودی عرب کو اب اپنے لئے بھی دہشت گردی کا خطرہ محسوس ہونے لگا ہے اور خود کو اس خطرے سے بچانےکے لئے اعلی حکومتی عہدوں پر وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہيں ہے ۔ دہشت گردانہ خطرے کا اعتراف اب خود سعودی حکام بھی کرنے لگے ہيں چنانچہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان منصور الترکی کے بقول داعش دہشت گرد گروہ سعودی عرب میں کاروائی کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کررہاہے۔
.......
/169