اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ مطابق شامی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے منگل کے روز متعدد بار جنوبی شام کے علاقے قنیطرہ میں، شامی فوج کے ٹھکانوں پر توپخانے سے حملے کئے ہيں۔ ان حملوں میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہيں ہوا تاہم شامی فوج کے توپخانے اور اس کے ہتھیاروں کے گودام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے شام کےجنوبی علاقے پر اسرائیلی فوج کے حملوں کی تائید کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ حملے، شمالی اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں پر شام سے راکٹ داغے جانے کے جواب میں کئے گئےہيں۔ اسرائیلی فوج کا دعوی ایسے عالم میں سامنے آیا ہے کہ صیہونی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں نے دس روز قبل شام کے علاقے قنیطرہ پر متعدد میزائل داغے تھے۔ اس حملے کے بعد شام کے صدر بشار اسد نے کہا تھا کہ جب کبھی بھی شامی فوج کو دہشت گردوں کے مقابلے میں اہم کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اسرائیل کے جنگی طیارے شامی فوج کو کمزور کرنے کے مقصد سے فوج کے خلاف حملے شروع کردیتے ہیں۔ بشار اسد نے کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج، داعش اور دیگردہشت گرد گروہوں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ، شامی فوج پر ہوائی حملے بھی کررہی ہے۔ درایں اثنا صہیونی حکومت کے اخبار ہارٹص نے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل، شام میں مسلح گروہوں خاص طور پر جبھۃ النصرہ کے ساتھ قریبی تعاون کررہا ہے۔ لبنان کی العھد ویب سائٹ نے بھی صہیونی حکومت کے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں زخمی ہونے والے چار مزید دہشت گردوں کو علاج معالجے کے لئے اسرائیل منتقل کردیا گيا ہے ۔ صھہیونی حکومت کے خبری ذرائع نے اس سے قبل اعتراف کیا تھا کہ کم از کم چار سو زخمی دہشت گردوں کا اسرائیل کے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں معالجے کے لئے لايا گيا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے ہسپتال جاکر ان زخمی دہشت گردوں کی عیادت کی ہے۔ نتنیاہو بارہا کہہ چکے ہيں کہ اسرائیل اپنے مفادات کی خاطر شام ميں سرگرم، دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲